اِعجاز المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 59 of 163

اِعجاز المسیح — Page 59

اعجاز المسيح ۵۹ اردو تر جمه ومع ذالك حصر هذا التعداد اس تعداد میں حصر کرنا مبدء سے معاد تک کے إشارة إلى سنوات المبدء والمعاد۔زمانے کی طرف ایک اشارہ ہے یعنی اس أعنى أن آياتها السبع إيماء إلى كى سات آیات دنیا کی عمر کی طرف اشارہ کرتی عمر الدنيا فإنها سبعة آلاف۔ہیں پس وہ سات ہزار سال ہے۔ان آیات میں ولكل منها دلالة على كيفية سے ہر ایک آیت گزشتہ ہزار سالوں کی کیفیت پر ايلاف۔والألف الأخيــر فـــي دلالت کرتی ہے اور یہ آخری ہزار سال تو گمراہی الضلال كبير۔وكان هذا المقام يقتضى هذا الإعلام كما كفلت میں بہت بڑھا ہوا ہے۔یہ مقام اس مدت کے الذكر إلى معاد من انتِناف۔بیان کرنے کا تقاضا کرتا ہے جیسا کہ سورۃ فاتحہ وحاصل الكلام أن الفاتحة آغاز سے انجام تک کے مضامین کی متکفل حصن حصين۔ونور مبین ہے۔حاصل کلام یہ کہ فاتحہ ایک حصن حصین ومُعلّم ومُعين۔وإنها يحصن اور نُور مبین ہے۔معلم اور مددگار ہے۔یہ قرآن أحكام القرآن من الزيادة کے احکام کو ہر قسم کی کمی بیشی سے محفوظ رکھتی ہے والنقصان۔كتحصين الثغور جیسے اعلیٰ حسنِ انتظام سے سرحدوں کی حفاظت کی بامرار الأمور۔ومثلها كمثل ناقة تحمل كل ما تحتاج إليه جاتی ہے۔اس کی مثال اُس اونٹنی کی طرح ہے جو وتوصل إلى ديار الحب من ضرورت کی ہر چیز کو اپنی پشت پر لا دے ہوئے ہے ركب عليه۔وقد حمل عليها من اور اپنے سوار کو دیار حبیب تک پہنچاتی ہے۔جس پر نوع الأزواد والنفقات ہر قسم کا زاد و نفقہ اور پار چات ولباس لا دا گیا ہو۔یا والثياب والكسوات۔أو مثلها اُس کی مثال اُس چھوٹے سے تالاب کی سی ہے كمثل بركة صغير فيها ماء جس میں بہت پانی ہے۔گویا کہ وہ مجمع بحار ہے یا غزير۔كأنها مجمع بحار۔أو بحر ذخار کی گزرگاہ۔میں دیکھتا ہوں کہ اس سورہ مجری قلهذم زخار۔وإني أرى أن فوائد هذه السورة الكريمة کریمہ کے فوائد و محاسن بے حد و حساب ہیں۔