اِعجاز المسیح — Page 57
اعجاز المسيح ۵۷ اردو تر جمه وضـعـفـــه بقوله پھر آیت ايَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ - اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ میں بندے کی ذلت ، بے بسی اور اُس کے ضعف کا ، ومن الممكن أن يكون تسمية | اظہار کیا ہے۔اور یہ بھی ممکن ہے کہ فطرتِ انسانی هذه السورة به نظرًا إلى ضرورات کی تمام ضرورتوں کے پیش نظر اس سورت کا نام الفطرة الإنسانية۔وإشارةً إلى اُمُّ الكتاب رکھا گیا ہو اور جذب الہی یا کسب کے ما تقتضى الطبائع بالكسب أو ذریعہ جو طبائع تقاضا کرتی ہیں ان کی طرف اشارہ الجواذب الإلهية۔فإن الإنسان مقصود ہو۔کیونکہ انسان اپنے تکمیل نفس کے لئے يُحب لتكميل نفسه أن يحصل لـه عـلـم ذات الـلـه وصـفـاتـه پسند کرتا ہے کہ اسے اللہ کی ذات، صفات اور وأفعاله۔ويُحبّ أن يحصل له افعال كا علم حاصل ہو اور وہ یہ بھی چاہتا ہے کہ اُسے علم مـرضـاتـه بوسيلة أحكامه رضائے الہی کا علم اُس کے اُن احکام کے وسیلے التي تنكشف حقيقتها بأقواله۔سے حاصل ہو جن کی حقیقت اُس کے اقوال سے وكذالك تقتضى روحانيته أن منکشف ہوتی ہے۔اسی طرح اُس کی روحانیت تأخذ بيده العناية الربانية تقاضا کرتی ہے کہ عنایت ربانی اس کی دستگیری ويحصل بإعانته صفاء الباطن کرے اور اُسی کی اعانت سے اُس کی باطنی صفائی والأنوار والمكاشفات الإلهية اور انوار ومكاشفات الہی حاصل ہوں۔یہ سورہ کریمہ وهذه السورة الكريمة مشتملة انہی مطالب پر مشتمل ہے بلکہ یہ سورت اپنے حسنِ على هذه المطالب۔بل وقعت بیان اور قوتِ اظہار کی وجہ سے ان مطالب کی بحسن بيـانـهـا و قـوة تبيـانهـا طرف کھینچنے والی ہے۔اس سورۃ کا ایک نام سبع كالجالب۔ومن أسماء هذه السورة "السبع المثاني“۔وسبب مثانی ہے۔اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ یہ دو حصوں پر التسمية أنها مُثنّى نصفها ثناء مشتمل ہے۔اس کا نصف بندے کا اپنے پروردگار العبد للرب ونصفها عطاء کی شاء کرنا ہے اور دوسرا نصف عبد فانی کے لئے ربّ الرب للعبد الفاني۔وقيل أنها كى عطا پر مشتمل ہے۔اور بیان کیا گیا ہے کہ اسے الفاتحة: ۵ ۷۵