اِعجاز المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 41 of 163

اِعجاز المسیح — Page 41

اعجاز المسيح ام اردو تر جمه كل ما طلب منافی حُلل مناظرات کے پیرایہ میں وہ ہم سے طلب کر رہا المناظرات مع أنه ترك طرق ہے۔باوجود اس کے کہ اس نے دیانت کے تمام طریق ترک کر دیئے ہیں۔اور اس معاملہ میں ہر قسم کی حق تلفیوں اور خیانتوں کے ساتھ پیش آیا الديانات۔وتصدى للأمر بأنواع الاهتضام والخيانات وبقى دينا فعليه أن يقضى الدَّين كَرَدْ ہے۔ہمارا قرض باقی ہے پس اُس پر فرض ہے کہ وہ امانتوں کے لوٹانے کی طرح اس قرض کو ادا کرے۔الأمانات۔وإني عاهدت الله أن میں اللہ سے یہ عہد کر چکا ہوں کہ میں مباحثات کی لن أحضر مواطن المباحثات۔جگہوں پر نہیں جاؤں گا اور میں اس عہد کو اپنی وأشعتُ هذا العهد في تألیفات میں شائع کر چکا ہوں۔پس میرے التأليفات۔فما كان لي أن لئے ممکن نہیں تھا کہ میں عہد شکنی کروں اور اپنے أنكث العهود وأعصى الربّ رب و دود کی نافرمانی کروں۔بنا بریں میں نے الودود۔فلأجل ذالك أغلقت مناظروں کا دروازہ بند کر دیا۔اور میری عیب چینی اور غیبت کرنے کے باوجود میں بحث کے لئے هذا الباب۔وما حضرت الخصم للبحث ولو عیبنی اپنے مدمقابل کے پاس نہ آیا۔میں نے اس کے ساتھ ایک میل جول رکھنے والے دوست کی طرح گفتگو کی مگر اس نے بیہودہ گوئی سے مجھے زخمی کیا۔واغتاب۔وإني كلمته كالخليط فگلمنى بالتخليط۔وقد دعوته میں نے پہلے بھی ایک دفعہ اسے دعوت دی تھی لیکن من قبل ففرمن شوكتي۔ثم میری شوکت کے باعث وہ بھاگ گیا۔پھر میں دعوت فهـابـة هيبتي۔وهذه نے اسے دوبارہ دعوت دی لیکن وہ میرے رعب ثالثة ليتم عليه حجة الله سے ڈر گیا۔اور یہ تیسری بار ہے تا کہ اس پر اللہ کی وحجتي۔إنه مال إلى الزمر حجت اور میری حجت تمام ہو جائے۔وہ مائلِ سرود ہوا اور ہم فرائض منصبی کی جانب مائل ہوئے۔ہماری وملنا إلى الذمار۔۵۳