اِعجاز المسیح — Page 39
اعجاز المسيح ۳۹ اردو تر جمه۔فتنتشر كلماتهم انتشرار ان کے کلمات تو محض پراگندہ ٹڈیوں کی طرح الجراد۔ولكني سألت الله منتشر ہوتے ہیں لیکن میں وہ ہوں کہ اللہ سے جو فأعطاني وجئته عطشان مانگاوہ اُس نے مجھے عطا فرمایا۔میں اُس کے پاس فأرواني۔فنحن الموفّقون پیاسا آیا اُس نے مجھے سیراب کر دیا۔ہم اللہ سے ونحن المؤيدون تؤاتينـا توفیق یافتہ اور تائید یافتہ ہیں۔قلم ہمارا ایسا ساتھ الأقلام۔كأنها السهام دیتے ہیں گویا وہ تیر وشمشیر ہوں ہمیں اپنے رب أو الحسام۔ولنا من ربنا كلام تام سے کلام تام اور گھنا سایہ میسر ہے۔جو چادر بھی ہم وظل ظليل۔فكل رداء نرتديه | زیب تن کریں وہ خوبصورت لگتی ہے۔ہماری وہ جميل۔ولـنــا جبلّة لا تبلغها فطرت ہے کہ جس تک پہاڑوں کو بھی رسائی نہیں۔اور وہ قوت حاصل ہے کہ جسے بڑے سے بڑا بوجھ الأثقال۔وحالٌ لا تُغيّرها بھی عاجز نہیں کر سکتا۔ہماری وہ شان ہے کہ جسے احوال زمانہ بدل نہیں سکتے اور ہمارا وہ رب ہے کہ الجبال۔وقوّة لا تُعجزها الأحوال۔و رب لا تُـــرد مــن حضرته الآمال۔فحاصل هذا العلام۔وإنى كتبتُ دعواى الكلام أنى من الله وكلامي من جس کی بارگاہ سے امیدیں رڈ نہیں کی جاتیں۔حاصل کلام یہ کہ میں اللہ کی طرف سے ہوں اور میرا کلام بھی اُسی علام خدا کی طرف سے ہے۔میں نے ودلائلها في هذا الكتاب۔لاسعف الخصم بحاجته وأنجيه اس کتاب میں اپنا دعوی اور اس کے دلائل تحریر کئے ہیں تاکہ میں اپنے مد مقابل کی حاجت روائی من الاضطراب فإن الخصم كان يدعوني إلى المباحثات۔کروں اور اُسے اضطراب سے نجات دلاؤں۔کیونکہ بعد ما دعوته لنمق التفسیر فی بعد اس کے کہ میں نے اُسے پیرایہ بلاغت اور استعارات کے محاسن میں تفسیر لکھنے کی دعوت دی حلل البلاغة ومحاسن الاستعارات۔فلما لويتُ عذاری وہ مد مقابل مجھے مباحثات کیلئے بلانے لگا۔پھر وتصديت لاعتذاری من جب میں نے مناظرات سے روگردانی کی اور اپنا ۵۱