اِعجاز المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 37 of 163

اِعجاز المسیح — Page 37

اعجاز المسيح ۳۷ اردو ترجمہ وشابه الضب۔وما صعد وما سوسمار ( گوہ) کے مشابہ ہو گیا۔نہ وہ بلندی کی ثب۔وجمع الأوباش وما دعا جانب چڑھا اور نہ اس نے استقامت دکھائی۔اس الرب۔وحقرنی و شتم و سب نے اوباش لوگوں کو اکٹھا کیا اور رب کو نہ پکارا۔اور وتبع الحيل وما صافى الله و ما میری تحقیر کی اور گالی گلوچ کی۔اس نے حیلہ سازی أحب۔وما قطع له العلق وما کی اور اللہ سے خلوص اور محبت کا تعلق نہ رکھا۔اُس نے ذات باری کی خاطر غیر اللہ سے تعلقات قطع جب۔وقال إنى عالم والآن نجم علمه أزبّ۔وكلّ ما دبّر تب۔اور ختم نہ کئے اور اس نے کہا کہ وہ عالم ہے جبکہ اس کے علم کا ستارہ ڈوب چکا ہے۔اس نے جوتد بیر بھی وإن كان عالما فأى حرج على کی وہ تباہ ہوئی۔اگر وہ فی الحقیقت عالم ہے تو ایک عالم أن يُفسّر سورة من سور عالم کے لئے قرآن کی سورتوں میں سے کسی سورت القرآن۔ويكتب تفسيره في کی تفسیر کرنے اور قرآن کی زبان میں اس کی تفسیر لسان الفرقان۔بل يُحمد لهذا و لکھنے میں کیا دشواری ہے؟ بلکہ ایسا کرنے سے تو يُثنى عليـــه بـصـدق الجنان۔اُس کی سچے دل سے تعریف وستائش کی جاتی اور یہ ويُعلم أنه من رجال الفضل معلوم ہو جا تا کہ وہ صاحب فضل وعلم اور فصیح البیان والعلم والبيان۔ويُشكر بما ينفع | شخص ہے۔اور خدائے رحمن کی طرف سے سکھائے الناس من معارفِ عُلم من گئے اُن معارف سے لوگوں کو مستفید کرنے کے الرحمان۔فلذالك أقول أنه من باعث اس کا شکر یہ ادا کیا جاتا۔بناء بریں میں کہتا كان يدعى ذُرَى المكان المنيع ہوں کہ جو شخص ایک بلند و بالا مقام کی چوٹی پر فائز فليبذل الآن جهد المستطيع ہونے کا دعویدار ہے اسے چاہیئے کہ مقدور بھر کوشش ويُثبت نفسه كالضليع۔ولا کرے اور اپنے آپ کو ایک مضبوط اور عمدہ گھوڑے شك أن إظهار الكمال من کی طرح ثابت کرے۔بلاشبہ کمال کا اظہار سيرة الرجال وعادة الأبطال۔مردوں کی سیرت اور بہادروں کا شیوہ ہے۔تا اس لينتفع به الناس ولیخرج به طریق سے لوگ اُس سے مستفید ہوں اور تا اس