اِعجاز المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 36 of 163

اِعجاز المسیح — Page 36

اعجاز المسيح ۳۶ اردو تر جمه يجعلون المكائد منتجعًا معاش بنایا اور جھوٹی باتوں کو اپنا ملجاً وما وی بنارکھا والأكاذيب كهفًا و مرجعًا۔ولهم ہے۔ان کے دل اُس رات کی طرح ہیں جس نے قلوبٌ كليل أردف أذنابه اپنا دامن پھیلا دیا ہے اور اُس تاریکی کی طرح ہیں وظلام مد إلى مدى الأبصار جس نے تاحد نظر اپنی طنابیں تان رکھی ہوں۔وہ أطنابه۔لا يعلمون ما القرآن نہیں جانتے کہ قرآن کیا ہے اور علم و عرفان کیا چیز۔وما الـعـلـم و العرفان۔ومن لم جو شخص قرآن کا علم نہیں رکھتا اور اسے بیان کی قوت يعلم القرآن وما أوتى البيان نہیں دی گئی تو ایسا شخص یا تو شیطان ہے یا شیطان فهو شيطان أو يضاهي کا مشاہ۔اور اُس نے خدائے رحمن کو نہیں پہچانا۔الشيطان۔وما عرف الرحمان اور کسی فاسق کی کیا مجال کہ اسے اُس عالی آرزو تک ومــا كـان لـفـاسـق أن يبلغ هذه رسائی ہو خواہ وہ اپنے خسیس نفس کو اس کی طرف المنية العليّة۔ولو شحذ إليها کتنا ہی تیز کرے۔بلکہ وہ فاسق تو اپنی پر دہ دری - النفس الدنيّة۔بل هو يختار طريق الفرار۔خوفًا من هتك اور لغزش ظاہر ہونے کے خوف سے فرار کی راہ اختیار کرتا ہے۔اسی طرح اس مکار شخص اور دروغ گو الأستار۔وظهور العثار۔شکاری نے کیا۔دیکھو ! اس نے کیسے جھوٹ کو وكذالك فَعَلَ هذا الرجل آراستہ کیا اور بیبا کی دکھائی اور کہا کہ میں نے چیلنج الكائد۔والمُزَوِّرُ الصائد۔قبول کیا حالانکہ اُس نے اسے قبول نہیں کیا۔اُس فانظروا كيف زوّر۔وأرى نے یہ بھی کہا کہ اس مقابلہ کے لئے میں نے لشکر التهوّر۔وقال لبيت الدعوة وما لبي۔وقال عبّيت العسکر تیار کر رکھا ہے حالانکہ اُس نے تیار نہیں کیا۔و للخصام وما عبى و ما بارز بل مقابلے کے میدان میں نہ نکلا بلکہ دھوکا دیا اور خدع وخبّ۔وإلى جُحره اب فریب کیا اور اپنے بل میں واپس چلا گیا۔وہ نحیف وتراءى نحيفا ضعيفا وكان يُرى ونزار ظاہر ہوا جبکہ وہ اپنے آپ کو قوی ہیکل شخص نفسه رجلًا بيا۔وأخلد إلى الأرض ظاہر کرتا تھا۔وہ زمین کی طرف جھک گیا اور