اِعجاز المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 10 of 163

اِعجاز المسیح — Page 10

اعجاز المسيح اردو تر جمه الأمانى النفسانية۔ما بقى فيهم تمام حدود پار کر چکی ہے۔ان میں نہ تو اللہ کی کتاب علم كتاب الله الفرقان ولا فرقان (حمید ) کا علم باقی رہا اور نہ ہی دلوں کا تقویٰ تقوى القلوب وحلاوة الإيمان اور ایمان کی حلاوت۔نیک کاموں اور رشد و وتباعدوا من أعمال البر وأفعال صلاح کے اعمال سے وہ بہت دور جا پڑے ہیں اور کامرانی کی راہوں سے ہٹ کر تباہی کے راستوں الرشد والصلاح۔وانتقلوا من پر چل نکلے ہیں ان کے ایمان کا انگارہ راکھ میں ، سبل الفلاح إلى طرق الطلاح۔اور ان کی نیکی و بھلائی فساد میں تبدیل ہو گئی ہے۔وعاد جمرهم رمادًا۔وصلاحهم وہ خیر سے اور خیران سے اتنی دور ہوگئی گویا وہ ایک فسادًا۔بعد وا من الخير والخير بَعُدَ منهم كالأضداد۔وصاروا كأنهم يُقادون في الأقياد۔دوسرے کی ضد ہوں۔اور وہ ابلیس کے لئے بیٹیوں میں جکڑے ہوئے قیدیوں کی طرح ہو لإبليس كــالـمـقرنين في گئے۔وہ باطل کی جانب ایسے کھینچے گئے گویا کہ وہ الأصفاد۔وانجذبوا إلى الباطل زندانوں کی طرف ہانک کر لائے گئے ہوں۔وہ اپنے فتوؤں میں خیانت کرتے ہیں اور تقویٰ يخونون في فتاواهم ولا يتقون اختیار نہیں کرتے۔جھوٹ بولتے ہیں اور کچھ پرواہ ويكذبون ولا يبالون ويقربون نہیں کرتے۔وہ اللہ کی حرمات کے قریب آتے ہیں حرمات الله ولا يبعدون۔ولا اور ان سے دور نہیں ہوتے۔وہ سچی بات نہیں سنتے يسمعون قول الحق بل يريدون بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ حق گو کا خون بہائیں اور اسے أن يسفكوا قائله ويغتالون۔ولما بلاک کردیں۔جب ان کے پاس امام وہ تعلیم لے جاء هم إمام بما لا تهوى أنفسهم كر آیا جسے ان کے نفس نا پسند کرتے تھے تو انہوں أرادوا أن يقتلوه وهم يعلمون۔وما نے اُسے دانستہ قتل کرنے کی ٹھان لی۔حالانکہ كان لبشر أن يموت إلا بإذن الله جب ایک عام بشر بھی اذنِ الہی کے بغیر نہیں مرسکتا فكيف المرسلون۔إنه يعصم تو پھر اللہ کے فرستادہ کو کیسے مار سکتے ہیں۔یقیناً اللہ ۱۳