اِعجاز المسیح — Page 116
اعجاز المسيح ۱۱۶ Σ اردو تر جمه والاغتيال۔فإن الوقت وقت احکام جاری کرنے کا زمانہ ہے۔یہ وقت تو کافروں غلبة الكافرين وإقبالهم۔کے غلبہ اور عروج کا وقت ہے۔مسلمانوں پر ان پران وضُرِبت الذلّة علی المسلمین کے اعمال کی وجہ سے ذلّت مسلط کر دی گئی۔بتاؤ بأعمالهم۔وكيف الجهاد ولا جہاد کیا؟ جبکہ کسی کو صوم وصلوٰۃ، حج و زکوۃ اور يُمنع أحد من الصوم والصلوة۔پاکبازی اور تقوی شعاری سے روکا نہیں جاتا اور نہ ولا الحج والزكوة ولا من ہی کسی کافر نے مسلمانوں پر انہیں مرتد کرنے یا العفة والتقاة۔وما سَـلّ كافر انہیں ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے لئے تلوار سونتی ہے۔سيفًا على المسلمين۔ليرتدوا (۱۵۳) أو يجعلهم عضين۔فمن العدل اور انصاف یہ ہے کہ تلوار کے مقابلہ میں ہی تلوار أن يُسَلَّ الحسام بالحسام۔سونتی جائے اور قلموں کے مقابلہ میں قلمیں۔ہم والأقلام بالأقلام وإنا لا نبكي شمشیر و سنان کے زخموں پر نہیں روتے ، ہم تو على جراحات السیف زبانوں کی مفتریات پر روتے ہیں۔دروغ گوئیوں والسنان۔وإنما نبكي على سے اللہ کے صحیفوں کو جھٹلایا گیا اور ان کے اسرار کو أكاذيب اللسان۔فبالأكاذيب چھپایا گیا۔ملت کی عمارت پر حملہ کیا گیا اور اس كذبت صحف الله واخفی کے گھر کو مسمار کیا گیا پس یہ ایک ایسے شہر جیسی ہوگئی أسرارها۔وصيل على عمارة جس کی فصیلیں تو ڑ دی گئیں ہوں یا اُس باغ کی الملة وهدم دارها۔فصارت طرح ہوگئی جس کے درختوں کو جلا دیا گیا ہو یا اُس کمدينة نقض أسوارها۔أو گلشن کی طرح جس کے پھول اور پھل بالکل تباہ کر حديقة أُحرق أشجارها۔أو دیئے گئے ہوں اور اس کے شگوفوں کو توڑ دیا گیا بستان أُتلِفَ زهرها وثمارها۔وسقط أنوارها۔أو بلدة طيبة ہو۔یا اُس پاک سرزمین کی طرح جس کی نہروں کا غيض أنهارها أو قصور پانی خشک ہو جائے۔یا ان مضبوط محلات کی طرح مشيدةٍ عُفّى آثارها ومزقها جن کے نشان تک مٹادیئے گئے ہوں اور تباہ کرنے الممزقون۔وقيل ماتت ونعى والوں نے انہیں پارہ پارہ کر دیا ہو۔اور یہ کہا گیا