ابن مریم

by Other Authors

Page 30 of 270

ابن مریم — Page 30

نہ ہو گا۔کیونکہ قوم پر قوم اور سلطنت پر سلطنت چڑہائی کرے گی اور جگہ ر جگہ کال پڑیں گے اور بھونچال آئیں گے لیکن یہ سب باتیں مصیبتوں کا شروع ہوں گی۔اس وقت لوگ تم کو ایذا دینے کے لئے پکڑوائیں گے اور تم کو قتل کریں گے اور میرے نام کی خاطر سب قومیں تم سے عداوت رکھیں گی اور اس وقت بہتیرے ٹھوکر کھائیں گے اور ایک دوسرے کو پکڑوائیں گے اور ایک دوسرے سے عداوت رکھیں گے اور بہت سے جھوٹے نبی اٹھ کھڑے ہوں گے اور بہتیروں کو گمراہ کریں گے اور بے دینی کے بڑھ جانے سے بہتیروں کی محبت ٹھنڈی پڑ جائے گی۔۔۔۔۔۔۔اور فوراً ان دنوں کی مصیبت کے بعد سورج تاریک ہو جائے گا اور چاند اپنی روشنی نہ دے گا اور ستارے آسمان سے گریں گے اور آسمانوں کی قوتیں ہلائی جائیں گی اور اس وقت زمین کی سب قومیں چھاتی پیٹیں گی اور ابن آدم کو بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ آسمان کے بادلوں پر آتے دیکھیں گے۔۴ (۲۴ : ۳ تا ۳۰ ) اس پیش گوئی سے بالعموم عیسائی کلیسیا یہ سمجھتا رہا کہ ظاہری طور پر مسیح آسمان سے نازل ہوں گے اور اعمال (۱ : ۹ تا ۱۱ ) کے مطابق جس طرح صحیح آسمان پر گئے اسی طرح زمین کی طرف دوبارہ آئیں گے۔اور متی اور دوسری اناجیل اور پولوس کے بیان کے مطابق سارے کرہ ارض کے روبرو مسیح بادلوں سے اترتے دکھائی دیں گے۔یہ وہ پیش گوئیاں تھیں جو رفتہ رفتہ مسلمانوں میں بھی رواج پا گئیں اور عیسائیوں کے خیالات ان میں سرایت کر گئے۔پھر انہیں خیالات کی رو میں بہہ کر انہوں نے احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریح ظاہریت کے سانچے میں ڈھال دی۔حضرت عیسی علیہ السلام کی آمد کی ان پیش گوئیوں کے پورا ہونے کے بارہ میں