ابن مریم — Page 31
۳۱ موجودہ زمانہ کے تعلیم یافتہ عیسائیوں میں یہ خیال پیدا ہوا کہ اگر ان پیش گوئیوں کو ظاہر پر محمول کیا جائے تو اس سے ان کا انکار لازم آتا ہے۔اس خیال سے وہ سخت مایوسی کا شکار ہوئے۔چنانچہ انہوں نے ان پیش گوئیوں کی یہ تاویل شروع کی کہ مسیح کی آمد سے مراد اٹھارویں صدی کے آخر اور انیسویں صدی کے شروع میں عیسائی مذہب کا ہونے والا احیاء اور غلبہ اور تسلط ہے۔گویا آخر کار انہیں بھی ان پیش گوئیوں کو استعارہ جان کر تاویل ہی کا دامن تھامنا پڑا۔پھر اس حقیقت سے بھی صرف نظر نہیں کیا جاسکتا کہ تمام عیسائی اس سے متفق بھی نہیں کہ علیہ السلام دوبارہ دنیا میں آئیں گے۔بلکہ ایک گروہ عیسائیوں میں سے اس بات کا بھی قائل ہے کہ آنے والا کوئی اور ہے جو مسیح ناصری علیہ السلام کے رنگ اور خوبو پر آئے گا۔اسی وجہ سے عیسائیوں میں سے بعض نے مسیح ہونے کے جھوٹے دعوے بھی کئے۔مثلاً امریکہ کا جان الیگزنڈر ڈوئی وغیر ہم۔پس اب امت مسلمہ پر بھی وہ وقت آچکا ہے کہ آسمان سے کسی کے نہ اترنے کے باعث نزول کے بارہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی کی تاویل کرنے پر مجبور ہو گی۔ورنہ مایوسی اور محرومی کے گہرے بادل ان کی موہوم امیدوں کو ڈھانپ لیں گے اور تاریکیاں ان کا مقدر ٹھہریں گی۔کیونکہ یہ الہی نوشتے پورے ہونے ضروری ہیں جن کا اظہار اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زبان سے اس طرح فرمایا کہ ”اے تمام لوگو ! سن رکھو کہ یہ اس کی پیش گوئی ہے جس نے زمین و آسمان بنایا۔اگر اب مجھ سے ٹھٹھا کرتے ہیں تو اس ٹھٹھے سے کیا نقصان۔کیونکہ کوئی نبی نہیں جس سے ٹھٹھا نہیں کیا گیا۔پس ضرور تھا کہ مسیح موعود سے بھی ٹھٹھا کیا جاتا۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔