ابن مریم — Page 29
۲۹ ثلاث وثلاثين سنة لا يعرف به أثر متصل يجب المصير إليه۔قال الشامي وهو كما قال فإن ذلك إنما يُروى عن النصارى والمصرّح به في الأحاديث النبوية أنه إنما رفع وهو ابن مائة وعشرين»۔(جلد ۲، ص ۲۵ زیر آیت [واذ قال الله يا عيسى إني متوفيك ورافعك إلي]۔(سورة آل عمران)۔کہ حافظ ابن قیم کی کتاب زاد المعاد میں لکھا ہے کہ یہ جو کہا جاتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام ۳۳ سال کی عمر میں اٹھائے گئے۔اس کی تائید کسی حدیث سے نہیں ہوتی۔تا اس کا ماننا واجب ہو۔شامی نے کہا کہ جیسا کہ امام ابن قیم نے فرمایافی الواقع ایسا ہی ہے۔اس عقیدہ کی بنا احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نہیں بلکہ یہ نصاری کی روایات ہیں۔اور انہیں سے یہ عقیدہ آیا ہے۔پس جب حضرت عیسی علیہ السلام کا آسمان پر نجم العنصری جانا عیسائیوں کا من گھڑت عقیدہ ہے تو ویسے آنا بھی عیسائیوں کا ہی مسلمہ عقیدہ ہے۔اس کا حقیقت سے دور کا بھی تعلق نہیں۔کیونکہ رجوع کا انحصار صعود پر علیہ السلام کی آمد ثانی ، مسیحی دنیا کا مسلمہ عقیدہ ہے۔اور نئے عہد نامہ میں مسیح کی آمد ثانی کی واضح پیش گوئیاں موجود ہیں۔چنانچہ متی کی انجیل میں لکھا ہے اور جب وہ زیتون کے پہاڑ پر بیٹھا تھا۔اس کے شاگردوں نے الگ اس کے پاس آکر کہا ہم کو بتا کہ یہ باتیں کب ہوں گی۔اور تیرے آنے اور دنیا کے آخر ہونے کا کیانشان ہو گا ؟ یسوع نے جواب میں ان سے کہا کہ خبردار ! کوئی تم کو گمراہ نہ کر دے۔کیونکہ بہتیرے میرے نام سے آئیں گے اور کہیں گے کہ میں مسیح ہوں اور بہت سے لوگوں کو گمراہ کریں گے اور تم لڑائیاں اور لڑائیوں کی افواہ سنو گے۔خبر دار گھبرا نہ جانا۔کیونکہ ان باتوں کا واقع ہونا ضروری ہے۔لیکن اس وقت خاتمہ