ابن مریم

by Other Authors

Page 28 of 270

ابن مریم — Page 28

۲۸ الفاظ نگاہ دل سے دیکھنے کے لائق ہیں کہ : یاد رکھو کہ ایسی پیش گوئیوں میں امتحان بھی مقصود ہوتا ہے۔جو لوگ عقل سلیم رکھتے ہیں وہ اس امتحان میں تباہ نہیں ہوتے اور روایات کو صرف ایک ظنی ذخیرہ خیال کرتے ہیں اور یہ بھی سمجھ لیتے ہیں کہ اگر کوئی روایت یا حدیث صحیح بھی ہو تب بھی اس کے معنے کرنے میں غلطی ہو سکتی ہے۔پس وہ تمام شناخت کا مدار خدا کی نصرت اور خدا کی تائید اور خدا کے نشانوں اور شہادتوں کو قرار دیتے ہیں۔اور جس قدر علامتیں روایتوں کے ذریعہ میسر آگئی ہیں ان کو کافی سمجھتے ہیں اور باقی روایتوں کو ایک ردی متاع کی طرح پھینک دیتے ہیں۔یہی طریق سعید فطرت یہودیوں نے اختیار کیا تھا جو مسلمان ہو گئے تھے۔اور یہی طریق ہمیشہ سے راست بازوں کا چلا آیا ہے۔اور اگر راست بازوں اور خدا ترسوں کا یہ طریق نہ ہوتا تو ایک نفس بھی یہودیوں اور عیسائیوں میں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ لا سکتا اور نہ کوئی یہودی حضرت عیسی کو قبول کر سکتا۔(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲۔صفحہ ۶۰۰ ) حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کے دوبارہ آنے کا مسئلہ عیسائیوں نے محض اپنے دین کی برتری اور شان و شوکت کے اظہار کے لئے گھڑا تھا۔کیونکہ ان کی پہلی آمد میں ان کی خدائی کا کوئی نشان ظاہر نہ ہوا۔چنانچہ یہ سمجھا گیا کہ آمد ثانی میں وہ خدائی کا جلوہ دکھائیں گے اور نشانات کی رونمائی کے سلسلہ میں پہلی کسریں نکالیں گے۔تا اس طرح پر پہلی آمد کے حالات کی پردہ پوشی کی جاسکے۔تفسیر روح البیان میں لکھا ہے۔ففي زاد المعاد لحافظ ابن قيم رحمه الله تعالى ما يذكران عيسى رفع وهو ابن