ابن مریم — Page 27
۲۷ کے ساتھ ملا کر پڑہیں اور پھر دیکھیں کہ کس شان سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سچی ثابت ہوتی ہے کہ امتِ مسلمہ بنی اسرائیل کے قدم بقدم چل کھڑی ہوئی ہے اور جو رویہ یہودیوں نے ایلیا کے نزول کی پیش گوئی کی تاویل کو سن کر اختیار کیا تھا ، آج وہی رویہ یہ نزول مسیح کی پیش گوئی کی حقیقت سن کر اختیار کر رہی ہے۔۔سوچنے کی بات ہے کہ ایلیا کے دوبارہ آنے کا خیال جو تمام یہود میں بالاتفاق قائم ہو چکا تھا آخر وہ حضرت مسیح علیہ السلام کی عدالت میں فیصلہ پا کر کیونکر رد ہو گیا ؟۔کہاں گیا یہودیوں کا اجماع ؟ کیا سچ مچ حضرت الیاس علیہ السلام آسمان سے اتر آئے یا کوئی ان کا متیل بن کر آیا ؟ پس نزول کی پیش گوئی استعارہ کی زبان ہے۔مسیح کی دوبارہ اسی جسم کے ساتھ آمد پر اس کو محمول کرنا یہودیوں کی ڈگر اختیار کرنے کے مترادف ہے۔جب حضرت مسیح علیہ السلام کی بعثت ہوئی تو یہود کے دو فریق ہو گئے تھے۔ایک وہ جو بہت کم اور قلیل التعداد تھا۔وہ تو آپ کو داؤد علیہ السلام کی نسل سے پا کر اور پھر آپ کی عاجزی اور راست بازی کو دیکھ کر اور ساتھ آسمانی نشانوں کو ملاحظہ کر کے اور زمانے کی حالت دیکھ کر کہ ایک نبی اور مصلح کا تقاضہ کرتی ہے اور پیش گوئیوں میں بیان شده اوقات کا جائزہ لے کر یقین کر گیا کہ یہ وہی نبی ہے جس کا بنی اسرائیل کو وعدہ دیا گیا تھا ، آپ پر ایمان لے آیا۔پھر اس نے مصائب و تکالیف کی آندھیوں میں بھی اپنا صدق و صفا ظاہر کیا اور استقامت و استقلال کے پانی سے فصل ایمان کو سر سبز رکھا۔مگر دوسرا گروہ وہ تھا جس نے استعارات کو حقیقت پر محمول کر کے اور متشابہات کو ہاتھ میں لے کر حضرت مسیح علیہ السلام کی نبوت کا انکار کیا اور کفر و ضلالت کی گہرائیوں میں اتر گیا اور اپنی گستاخیوں کی وجہ سے آخر کار خدا تعالیٰ کے غضب کا نشانہ بن گیا۔اس سلسلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے