ابن مریم — Page 16
پس نزول کے معنی تاویلی ہیں کہ نزولِ مسیح بروزی طور پر ہو گا۔صحابہ ہوا تابعین کا نزول مسیح کے متعلق عقیدہ تاویلیں تھا کہ وہ نزول بروزنی طور پر ہے نہ کہ جسمانی طور پر کیونکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں ہے۔اور وفات یافتہ دوبارہ دنیا میں نہیں آیا کرتے۔کتاب اللہ میں خدا تعالیٰ کا یہ اٹل فیصلہ موجود ہے کہ اَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ۔مردے لوٹا نہیں کرتے۔اور جس امر کے متعلق اس کا فیصلہ موجود ہو وہ اسی کے مطابق اپنی سنت دکھاتا ہے۔جس بات کو کہے کہ کروں گا یہ میں ضرور ملتی نہیں وہ بات خدائی یہی تو ہے وفات مسیح کا مدینہ میں اعلان اور صحابہ کا اجماع : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال پر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مجلس میں فرمایا فقال أبو بكر : أما بعد فمن كان منكم يعبد محمدا فإن محمداً قد مات ، ومن كان منكم يعبد الله فإن الله حي لا يموت۔قال الله : وما محمد إلا رسول قد خلت من قبله الرسل] البخاري، باب كتاب النبي إلى كسرى وقيص)۔کہ جو کوئی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا وہ یہ سن لے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو چکی ہے۔اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھاوہ یہ جان لے کہ اللہ تعالیٰ زندہ ہے اور اس پر کبھی موت نہیں آتی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ محمد تو صرف ایک رسول تھے ان سے پہلے بھی تمام رسول اس جہان فانی سے کوچ کر چکے ہیں۔وفات مسیح کا بحرین میں اعلان : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک جلیل القدر صحابی حضرت جارود بن معلیٰ نے فرمایا وأنا أشهد أن لا إله إلا الله وأن محمداً عبده ورسوله ، عاش كما عاشوا ومات باقی اگلے صفحہ پر