ابن مریم — Page 210
وہ ایسے پر آشوب وقت کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیح کے نزول کی خبر دی تھی اور اس کا ایک بڑا کام یہ مقرر فرمایا تھا کہ یکسر الصلیب" صلیب یعنی صلیبی عقائد کو پاش پاش کر دے گا۔اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ایسے ہی زمانہ میں اپنی آمد کی خبر دی تھی۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے ان پیش گوئیوں کے مطابق حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کو مثیل مسیح بنا کر بھیجا۔آپ جہاں مذاہب عالم کے موعود تھے وہاں آپ نے تھے وہاں آپ نے خصوصی طور پر عیسائیوں کے لئے مسیح ہونے کا دعوی کیا تا وہ صلیب توڑی جائے جس نے مسیح علیہ السلام کے بدن کو توڑا تھا۔آپ یہ عزم صمیم لے کر اٹھے کہ والله اني اکسرن صليبكم ولو مزقت ذرات جسمي واكسر۔خدا کی قسم میں ضرور بالضرور تمہاری صلیب کو ٹکڑے ٹکڑے کر دوں گا، خواہ مجھے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے اور میرے جسم کے ذروں کو بھی کچل دیا جائے۔آپ نے حیات مسیح کے گمراہ کن اور شرک سے بھرپور عقیدے کو باطل قرار دیتے ہوئے بائبل ، قرآن اور تاریخ کے دلائل کے ساتھ عقلی دلائل کا ایک انبار مہیا کیا۔اور ان دلائل کی حقانیت پر قانون قدرت کی گواہی بھی پیش کی۔آپ نے حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات کو عیسائیوں اور مسلمانوں کے مسلمات سے ثابت کیا جس سے نہ صرف عیسائیوں کے خدا کا فوت ہونا ثابت ہوا بلکہ عیسائیت کی کمر ٹوٹ گئی۔اور صلیب ٹوٹ گئی۔آپ نے فرمایا وو سو بہت ہی خوب ہوا کہ عیسائیوں کا خدا فوت ہو گیا اور یہ حملہ ایک برچھی کے حملہ سے کم نہیں۔" (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن۔جلد ۳ صفحہ ۳۶۲)