ابن مریم

by Other Authors

Page 135 of 270

ابن مریم — Page 135

۱۳۷ (xv) ایک تمثیل۔منکروں کا حال یسوع پھر ان سے تمثیلوں میں ان کی نسبت یہی تمثیل ٹھیک کہنے لگا کہ آسمان کی بادشاہی اس بادشاہ آتی ہے کہ ایک بادشاہ نے اپنے وعدہ کی مانند ہے جس نے اپنے بیٹے کی کے موافق ایک شہر میں ایک حاکم مقرر شادی کی اور اپنے نوکروں کو بھیجا کہ کر کے بھیجا تا وہ دیکھے کہ در حقیقت بلائے ہووں کو شادی میں بلا لائیں مگر مطیع کون ہے اور نافرمان کون انہوں نے نہ آنا چاہا۔پھر اس نے اور ہے۔اور تا ان تمام جھگڑوں کا تصفیہ نوکروں کو یہ کہہ کر بھیجا کہ بلائے بھی ہو جائے جو ان میں واقع ہو رہے ہوؤں سے کہو کہ دیکھو میں نے ضیافت مگر انہوں نے نہ مانا اور تیار کرلی ہے۔میرے بیل اور موٹے اسے قبول نہ کیا اور اس کو کراہت کی موٹے جانور ذبح ہو چکے ہیں اور سب نظر سے دیکھا۔۔۔۔۔۔۔۔اس کو پکڑ کر کچھ تیار ہے۔شادی میں آؤ۔مگر وہ بے عزت کیا۔۔۔۔۔۔اور بہت سی تحقیر بے پرواہی کر کے چل دئے۔کوئی اور تذلیل کی اور بہت سی سخت زبانی اپنے کھیت کو اور کوئی اپنی سوداگری کو کے ساتھ اس کو جھٹلایا۔تب وہ ان اور باقیوں نے اس کے نوکروں کو پکڑ کے ہاتھ سے تمام آزار اٹھا کر جو اس کر بے عزت کیا اور مار ڈالا۔بادشاہ کے حق میں مقدر تھے اپنے بادشاہ کی غضبناک ہوا اور اس نے اپنا لشکر بھیج طرف واپس چلا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔آخر کر ان خوبیوں کو ہلاک کر دیا اور ان کا شام کے قریب بہت سے پولیس کے سپاہی آئے جین کے ساتھ بہت سی شہر جلا دیا۔(متی ۲۲ : ۱ تا ۸) ہتکڑیاں بھی تھیں۔سو انہوں نے آتے ہی ان شریروں کے شہر کو پھونک دیا اور پھر سب کو پکڑ کر ایک ایک کو