ابن مریم — Page 110
١١٢ اور پادری طالب الدین صاحب اس بارہ میں لکھتے ہیں کہ ہے۔مسیح محمدی مسیح کی بے گناہی بھی اس کی سیرت کی اعلیٰ خصوصیت سمجھی جاتی (حیات امسیح۔صفحہ ۱۴۷) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بے عیب زندگی آپ کے اعلیٰ کردار اور حسن سیرت آپ کی صداقت کی آئینہ دار تھی۔آپ فرماتے ہیں۔تم کوئی عیب افتراء یا جھوٹ یا دعا کا میری پہلی زندگی پر نہیں لگا سکتے تا تم یہ خیال کرو کہ جو شخص پہلے سے جھوٹ اور افتراء کا عادی ہے۔یہ بھی اس نے جھوٹ بولا ہو گا۔کون تم میں ہے جو میری سوانح زندگی میں کوئی نکتہ چینی کر سکتا ہے۔پس یہ خدا کا فضل ہے کہ جو اس نے ابتداء سے مجھے تقونی پر قائم رکھا اور سوچنے والوں کے لئے یہ دلیل ہے۔تذكرة الشہادتین۔جلد ۲۰ - صفحه ۶۴) ماموریت سے پہلے اس بے عیب زندگی کی تصدیق دوسروں نے بھی کی۔چنانچہ احمدیت کے شدید دشمن مولوی ظفر علی خان ایڈیٹر اخبار "زمیندار" کے والد مولوی سراج الدین صاحب فرماتے ہیں۔" مرزا غلام احمد صاحب ۱۸۶۰ء ، ۱۸۶۱ء کے قریب ضلع سیالکوٹ میں محرر تھے۔اس وقت آپ کی عمر ۲۲ ، ۲۳ سال کی ہو گی۔اور ہم چشم دید شہادت سے کہتے ہیں کہ جوانی میں نہایت صالح اور متقی بزرگ تھے۔زمیندار۔۸ جون ۱۹۰۸ ء۔بحوالہ احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک )