ابن مریم

by Other Authors

Page 109 of 270

ابن مریم — Page 109

HI (i) ماموریت کے بارہ میں ابتداء لاعلمی مسیح موسوی انجیل سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح ناصری کو پہلے پہل اپنے منصب کے بارہ میں شاید کچھ ابہام تھا۔چنانچہ متی باب ۱۶ آیت ۱۳ تا ۲۰۰ سے پتہ چلتا ہے کہ آپ نے اپنے شاگردوں سے پوچھا کہ لوگ ابن آدم کو کیا کہتے ہیں۔پھر پوچھا کہ تم مجھے کیا کہتے ہو۔اس پر شاگردوں نے جواب دیا کہ ہم تجھے زندہ خدا کا بیٹا مسیح سمجھتے ہیں۔مسیح محمدی : حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر بھی آپ کا مقام شروع میں غیر واضح تھا۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں کہ دو چونکہ ایک گروہ مسلمانوں کا اس اعتقاد پر جما ہوا تھا اور میرا بھی یہی اعتقاد تھا کہ حضرت عیسیٰ آسمان پر سے نازل ہوں گے۔اس لئے میں نے خدا کی وحی کو ظاہر پر حمل کرنا نہ چاہا بلکہ اس وحی کی تاویل کی اور اپنا اعتقاد وہی رکھا جو عام مسلمانوں کا تھا۔اور اسی کو براہین احمدیہ میں شائع کیا۔لیکن بعد اس کے اس بارہ میں بارش کی طرح وحی نازل ہوئی کہ وہ مسیح موعود جو آنے والا تھا تو ہی ہے۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲۔صفحہ ۱۵۳) (ii) بے عیب زندگی کا دعوی سیح موسوی قرآن کریم کی رو سے ماموریت سے پہلے نبی کی بے عیب زندگی اس کی صداقت کی ایک دلیل ہوتی ہے۔اس دلیل کو حضرت عیسیٰ السلام نے اپنی صداقت کے ثبوت کے طور پر پیش کیا اور فرمایا تم میں سے کون مجھ پر گناہ ثابت کرتا ہے ؟ " (یوحنا ۸ (۴۶)