ابن مریم — Page 105
1+2 کہ عجب نہیں کہ علماء ظواہر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اجتہادات سے ان کے ماخذ کے کمال دقیق اور گہرا ہونے کے باعث انکار کریں اور ان کو کتاب و سنت کے مخالف جانیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بہت سے عقائد اور خیالات زمانہ کے مسلمانوں کے رائج الوقت عقائد سے اختلاف رکھتے تھے مثلا مسیح کی وفات کا عقیدہ ، مسیح ناصری کی بجائے متبل مسیح کی آمد کا عقیدہ ، ایک ہی شخصیت کا مسیح اور مہدی کہلانا ، خونی اور جنگی مہدی کے وجود سے انکار ، جہاد بالسیف کا التواء، ملائکہ اللہ کے نزول کی تشریح ، دجال کی حقیقت کا بیان وغیرہ وغیرہ۔ان اختلافات عقائد کی وجہ سے علمائے ظواہر آپ کو اسلام سے منحرف اور دین میں ایک نئی راہ نکالنے والا خیال کرتے تھے۔کیونکہ آپ ایک روشن خیال اور تازہ بیان انسان تھے۔(iii) پر اثر اور تعجب انگیز بیان مسیح موسوی جب حضرت عیسی علیہ السلام نے قوت قدسیہ سے ایک گونگے کو خدا تعالیٰ کے اذن سے قوت گویائی دی تو لوگوں نے متحیر ہو کر کہا ”اسرائیل میں ایسا کبھی نہیں دیکھا گیا۔(متی ۳۳:۹) آپ کے کلام میں بھی لوگ تعجب کرتے تھے۔چنانچہ لکھا ہے کہ اس کے کلام میں کچھ ایسی تاثیر تھی کہ اس کے مخالفوں کہ یہ بھی کہنا پڑا کہ د انسان نے کبھی ایسا کلام نہیں کیا ،۔" (حیات امسیح۔صفحہ ااا) مسیح محمدی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کلام مجود نما پر بھی ایسا