ابنِ سلطانُ القلم

by Other Authors

Page 51 of 298

ابنِ سلطانُ القلم — Page 51

وو ابن سلطان القلم ~ 51 - ~ جب سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وصال ہوا تو لاہور سے بذریعہ تار کپور تھلہ کی جماعت کو اطلاع پہنچی۔ہم سب احباب جماعت صدمہ رسیدہ دلوں کے ساتھ قادیان کی طرف روانہ ہوئے۔جب ہم امرتسر پہنچے تو ریلوے پلیٹ فارم پر حضرت مرزا سلطان احمد صاحب ابن سیدنا حضرت اقدس علیہ السلام کو پر آشوب اور بے قراری کی حالت میں ٹہلتے ہوئے دیکھا۔حضرت مرزا سلطان احمد صاحب ان دنوں جالندھر میں افسر مال تھے اور اس وقت جالندھر سے روانہ ہو کر قادیان تشریف لے جا رہے تھے۔ہم نے آگے بڑھ کر اظہار تعزیت و افسوس کیا جس کا آپ نے مناسب جواب دیا اور فرمایا کہ میرے ساتھ ایک عجیب واقعہ گزرا ہے۔ہمارے دریافت کرنے پر آپ نے بتایا کہ میں دورہ پر تھا اور جالندھر کے بعض نواحی دیہات میں گھوڑے پر جا رہا تھا۔(حضرت مرزا سلطان احمد صاحب اپنی ملازمت کے دوران میں عام طور پر صرف ایک دو اہلکاروں کو ساتھ لے کر دورہ پر نکلتے تھے۔زیادہ عملہ ساتھ لے جانا رعایا پر بوجھ سمجھتے ہوئے ناپسند فرماتے تھے۔ناقل) کہ اچانک مجھے زور سے یہ الہامی آواز سنائی دی: ”ماتم پرسی“ و اس آواز کے سنائی دینے کے ساتھ ہی مجھ پر شدید ہم کیفیت طاری ہو گئی اور میری کمر بوجھ سے دب گئی۔چونکہ میرا زیادہ تعلق تائی صاحبہ سے تھا۔اس سے میرا ذہن سب سے پہلے انھی کی طرف منتقل ہؤا کہ شاید ، ان کی وفات ہو گئی ہو لیکن معا بعد مجھے خیال پیدا ہوا کہ تائی صاحبہ کا مقام