ابنِ سلطانُ القلم — Page 50
ابن سلطان القلم ~ 50 ~ خان بہادر “ کا خطاب: آپ کو انگریزی حکومت کی طرف سے ”خان بہادر “ کا خطاب ملا۔یہ خطاب یقیناً آپ کی قابلیت کی وجہ سے اور آپ کی خدمات کے اعتراف میں آپ کو دیا گیا تھا لیکن آپ اس خطاب کو اپنے لیے باعث افتخار و شرف نہ گردانتے تھے اور نہ ہی اسے کوئی آسمانی خطاب سمجھتے تھے۔عام طور پر اپنے نام کے ساتھ ”خان بہادر “ لکھا بھی نہیں کرتے تھے۔اپنے و ایک دفعہ ایک انگریز افسر نے آپ سے پوچھا کہ خان بہادر ! آپ ستخطوں کے ساتھ ”خان بہادر “ کیوں نہیں لکھتے۔آپ نے جواباً اسے کہا۔”صاحب ! خان بہادر کا خطاب سرکار سے مجھے اب ملا ہے اور مرزا کا لقب مجھے آبًا عَنْ جَدٍ حاصل ہے۔خان بہادر کا خطاب مشروط ہے اور مرزا کا خطاب غیر مشروط۔اس لیے میں وہی خطاب اپنے نام کے ساتھ لکھتا ہوں جو ہر حال میں میرے نام کے ساتھ رہا اور رہے گا۔166 بذریعہ الہام والد صاحب کی وفات کی خبر : دوران ملازمت آپ کو ایک ایمان افروز واقعہ یہ پیش آیا کہ بذریعہ الہام آپ کو اپنے والد گرامی کی وفات کی خبر دی گئی۔مکرم مولوی برکات احمد صاحب راجیکی بیان کرتے ہیں کہ حضرت منشی ظفر احمد صاحب نے بیان فرمایا کہ نیرنگ خیال جوبلی نمبر۔مئی، جون ۱۹۳۴ء صفحہ ۲۹۱،۲۹۲