ابنِ سلطانُ القلم

by Other Authors

Page 52 of 298

ابنِ سلطانُ القلم — Page 52

ابن سلطان القلم ~ 52 ~ اللہ تعالیٰ کے حضور اتنا بلند نہیں، بلکہ حضرت والد ماجد (مسیح موعود علیه السلام) وفات پاگئے ہیں اور وہی علو مرتبت کے اعتبار سے یہ مقام رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے لیے اظہار تعزیت فرمائے۔اس یقین کے پختہ ہونے پر میں گھوڑا تیز کر کے جالندھر شہر پہنچا اور سیدھا کچہری میں ڈپٹی کمشنر کے پاس، جو انگریز تھا، گیا اور اسے درخواست دی کہ میرے والد صاحب کا انتقال ہو گیا ہے۔مجھے پانچ دن کی رخصت دی جائے۔ڈپٹی کمشنر صاحب میری درخواست پڑھ کر کہنے لگے کہ آپ کے والد صاحب مشہورِ خلائق شخصیت تھے۔ان کی علالت کی کوئی خبر یا اطلاع شائع نہیں ہوئی۔کیا آپ کو کوئی تار ملا ہے کہ ان کی وفات اچانک ہو گئی ہے۔میں نے جوابا کہا کہ مجھے تار وغیرہ تو کچھ نہیں ملا لیکن مجھے الہام ”ماتم پرسی“ ہوا ہے جس سے میں یقین کرتا ہوں کہ میرے والد صاحب وفات پا گئے ہیں۔میری یہ بات سن کر ڈپٹی کمشنر صاحب ہنس پڑے اور کہنے لگے کہ الہام ولہام کوئی چیز نہیں۔یہ محض آپ کا وہم ہے۔آپ کے والد خیریت سے ہیں کوئی فکر نہ کریں۔پھر کہا میں رخصت دینے میں روک نہیں ڈالتا۔اگر آپ چاہیں تو پانچ دن سے زیادہ رخصت لے لیں۔چونکہ اس وقت مجھے غم اور تشویش تھی اور میں جلد قادیان پہنچنا چاہتا تھا اس لیے میں نے مسئلہ الہام وغیرہ پر بحث کو طول دینا مناسب نہ سمجھا اور رخصت لے کر رختِ سفر باندھنے کے لیے اپنی رہائش گاہ پر آیا۔ابھی میں بستر وغیرہ تیار کر رہا تھا کہ لاہور سے مرسلہ تار آگیا جس میں لکھا تھا کہ