ابنِ سلطانُ القلم — Page 221
۱۲- ۱ فنون لطیفہ ابن سلطان القلم ~ 221 - ~ ۱۹۱۲ء کے اواخر میں یونین سٹیم پریس لاہور سے شائع ہوئی۔اڑھائی سو کے قریب صفحات ہیں۔اس کتاب کے دو حصے ہیں۔پہلے حصّے میں فنون کی اقسام پر عمومی بحث اور نیچر کے ساتھ اس کے تعلق کو بیان کیا گیا ہے اور دوسرے حصے میں فنونِ لطیفہ کی اقسام پر بحث کی گئی ہے۔علم کی مختلف شاخوں میں سے بعض کو فنون سے تعبیر کیا جاتا ہے۔فن کیا ہے؟ آپ کے نزدیک جب انسان نیچر اور مواد نیچر میں دست اندازی کرتا ہے اور ایک خاص طریق کے ساتھ سامان نیچر کو اپنے تصرف میں لاتا ہے تو وہ ایک فن سے کام لیتا ہے۔مشاہدات، محسوسات، تخیلات کی اختراعی صور تیں ایک فن ہے۔فن کو دو بنیادی اقسام میں تقسیم کیا ہے۔(۱) فنون متعارفه (۲) فنون لطیفہ فنونِ متعارفہ وہ ہیں جن پر عام زندگیوں کا بہت کچھ مدار ہے، مثلاً: کاشت کاری کفش سازی ،خیاطی معماری نجاری، قصابی، حجام گری، ظروف سازی، کشیده کاری، رنگ سازی اور قالین بافی وغیرہ۔فنون لطیفه دراصل فنونِ متعارضہ ہی کا دلآویز اور نرالا روپ ہے۔فنونِ متعارفه چند منزلوں پر ہی رہ گئے ہیں اور فنونِ لطیفہ عام لوگوں سے نکل کر مشاہیر کی گود میں پرورش پا کر نکلتے ہیں۔