ابنِ سلطانُ القلم

by Other Authors

Page 220 of 298

ابنِ سلطانُ القلم — Page 220

ابن سلطان القلم ~ 220 ~ اس کتاب میں آپ نے بیان کیا ہے کہ منطق، سائنس اور فلسفہ، صداقت کی تلاش اور تنقید کے لیے ضروری علوم ہیں، لیکن یہ علوم ہمیں ظاہری اور معاشرتی منازل تک پہنچاتے ہیں۔زندگی کے اُس ساحل پر نہیں لے جاتے جو روحانی ساحل سے موسوم ہے۔انسانی تصویر کے ظاہری حصے کا باطنی حصہ ، ایک تعلق ضرور ہے، لیکن جن محنتوں اور ریاضتوں سے اہل اللہ منازلِ وجدان تک پہنچتے ہیں، وہ حکیموں اور فلاسفروں کی ریاضت اور تفکر سے کچھ اور ہی سماں رکھتی ہیں۔وجد یا وجد ان سے وہ حالت اور حقیقت مراد ہے، جس کی وجدان وجہ سے انسان دوسری روحوں پر افضل و اشرف شمار ہوتا ہے اور یہ حقیقت اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر ودیعت کی ہوئی ہے، اسی کو پانے کا نام وجد ہے۔مَنَ عَرَفَ نَفْسَهُ عَرَفَ رَبَّهُ۔پھر وجد کے مراحل ہیں۔پہلا مرحلہ تزکیہ ہے۔دوسرا زینہ خدا پرستوں کا اقتدا آخر پر حقیقی وجد کی تعریف کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ تمام ہے۔اولیاء اور بزرگان کی زندگیوں اور عبادتوں کا یہ منشا نہیں رہا کہ لوگ ان کی پوجا کریں، بلکہ یہ رہا ہے کہ ان کی معیت و بیعت سے لوگ خدا پرستی کی راہیں دیکھیں اور اشاعت اخوتِ اسلامی اور ندائے قومی پر ہی ان کا خاتمہ ہوا۔پس حقیقی اور اصلی وجد یہ ہے کہ اپنی پر سوز صداؤں سے قوم اور اجزائے قوم کو وجد میں لائیں۔