ابنِ سلطانُ القلم — Page 173
ابن سلطان القلم ~ 173 - بولے ہے یہی خامہ کہ کس کس کو میں باندھوں بادل سے چلے آتے ہیں مضموں مرے آگے آپ اعلیٰ سرکاری عہدوں پر فائز رہے۔جائیداد کا انتظام ہر چند خود نہ کرتے تھے، لیکن اس کی نگرانی بھی یقیناً آپ کی توجہ اور اہتمام کی متقاضی تھی۔ان ذمہ داریوں اور فرائض منصبی کی ادائیگی کے باوجود آپ مطالعہ اور تحریر کے کام سے کبھی لا تعلق نہیں رہے۔دریائے طبیعت ہمیشہ موج پر آیا رہتا تھا۔اپنے کاموں کے دوران میں جو وقفہ ملتا اس میں بھی مضمون لکھ لیا کرتے تھے۔سید میر محمود احمد ناصر صاحب نگران ریسرچ سیل و صدر نور فاؤنڈیشن، ربوہ کی روایت گذشتہ صفحات میں گزر چکی ہے، جس میں وہ بیان کرتے ہیں کہ صاحبزادہ مرزا سلطان احمد صاحب کا قلم اس قدر رواں تھا کہ دو مقدموں کے دوران میں جو تھوڑا سا وقت ملتا تھا اس میں آپ کے مضامین کی فہرست: مضمون لکھ لیتے تھے۔حضرت صاحبزادہ مرزا سلطان احمد صاحب کے مضامین کی فہرست چونکہ بہت طویل ہے ، اس لیے کتاب کے آخر میں دے دی گئی ہے۔