ابنِ سلطانُ القلم — Page 172
ابن سلطان القلم ~ 172 ~ جیوں زمانہ گزرتا جاتا ہے اور پیک عمر منازل تجربہ طے کرتے کرتے بڑھتا جاتا ہے پچھلے خیالات میں سے بعض خیالات قابل ترمیم یا قابل تشریح ضرور معلوم دیتے ہیں۔ہوئی و پچھلے سال فن شاعری پر ایک چھوٹا سا رسالہ جو لکھا ہے وہ میری اور چند مبصرین کی رائے میں ایک اچھے پیرایہ میں لکھا گیا ہے۔اب ایک کتاب سات سو صفحہ کی موسوم به اساس الاخلاق مطبع وکیل ہند امر تسر میں شائع ہے۔میری رائے میں اس رنگ میں اردو زبان میں بہت کم کتابیں لکھی گئی ہیں۔اس کتاب میں خاص اصولوں کی پابندی سے اس اساس الاخلاق پر بحث کی گئی ہے۔اگر نقادانِ ملک نے اسے پسند کیا تو میری رائے میں میری پینتالیس چھیالیس تصانیف میں سے یہ کتاب بہترین ہو گی اور شاید بعض کی نظروں میں یہی کتاب بہترین میں سے شمار ہو کیونکہ ہر ایک کا مذاق جدا جدا ہے۔اگر سب نہیں تو فقرے دو فقرے شاید اچھے نکل آئیں۔مضمون نویسی 166 حضرت مرزا سلطان احمد صاحب کے بارہ میں یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ وہ فطرتاً ادیب اور قلم کار تھے۔صناع کامل نے آپ کو لکھنے کی خاص صلاحیت ودیعت کی ہوئی تھی۔آپ کا توسن خامہ جب چلتا تو رکنے کا نام نہ لیتا تھا۔حکیم انشاء اللہ خان انشا کا یہ شعر آپ کی تلاطم خیز طبیعت پر خوب صادق آتا ہے۔ا نقوش۔آپ بیتی نمبر صفحہ ۵۷۶ تا ۵۷۸