ابنِ سلطانُ القلم — Page 129
ابن سلطان القلم ~ 129 - مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور پھر حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کے زمانہ میں وہ احمدیت میں داخل نہ ہوئے۔جب میرا زمانہ آیا تو اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان کیسے کہ وہ میرے ذریعے سے احمدیت میں داخل ہو گئے۔اس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک بیٹے کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی حالات میں میرے ہاتھ پر بیعت کرنے کی توفیق عطا فرمائی، حالانکہ وہ میرے بڑے بھائی تھے اور بڑے بھائی کے لیے اپنے چھوٹے بھائی کے ہاتھ پر بیعت کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔چنانچہ بیعت کے بعد انھوں نے خود بتایا کہ میں ایک عرصہ تک اسی وجہ سے بیعت کرنے سے رُکتا رہا کہ اگر میں بیعت کرتا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کرتا یا حضرت خلیفہ اول کی کرتا جن پر مجھے بڑا اعتقاد تھا۔اپنے چھوٹے بھائی کے ہاتھ پر کس طرح بیعت کر لوں، مگر کہنے لگے آخر میں نے کہا یہ پیالہ مجھے پینا ہی پڑے گا۔چنانچہ انھوں نے میرے ہاتھ پر بیعت کی اور اس طرح خدا تعالیٰ نے مجھے تین کو چار کرنے والا بنا دیا۔کیونکہ پہلے روحانی لحاظ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ذریت میں ہم صرف تین بھائی تھے مگر پھر تین سے چار ہو گئے۔“ مرزا سلطان احمد صاحب کے سیاہ لباس سے آپ کی وہ حالتِ انکارِ مسیح موعود علیہ السلام مراد ہے جس میں آپ کی ساری عمر گزری۔مگر اُسی وقت ہوا کہ یہ ایک فرشتہ ہے جو سلطان احمد کا لباس پہن کر کھڑا ہے اور یہ معلوم وہ حالت رجوع اور صلح تھی جو کہ بیعت خلافت کے بعد ظہور میں آئی۔اس الموعود انوار العلوم جلد۷ اصفحہ ۶۳۶