ابن رشد — Page 66
شرح ارجوزه في الطب شیخ الرئیس ابن سینا کی طب پر منظوم کتاب الارجوزه في الطب ( يا شرح منظومه في الطب ) جو عربي میں 1326 اشعار پر مشتمل ہے، نے اس کی شرح لکھی تھی۔عبرانی میں اس کا ترجمہ موسیٰ ابن میمون نے 1260ء میں کیا۔عبرانی نظم میں فرانس کے شہر بے زمیئر (Beziers) سے اس کو غرناطہ کے ایوب ابن جوزف نے 1261ء میں منتقل کیا۔لاطینی میں اس کا ترجمہ آرمن گاڈ (Armenguad) نے کمیٹی کم ڈی میڈی سینا ( Canticum de Medicina) کے عنوان سے کیا جو وفیس (Venice) سے 1484ء میں زیور طبع سے آراستہ ہوا۔اس کا قلمی نسخہ امریکہ کی ایک لائبریری میں موجود ہے: (Yale University Library, Landberg Collection, MS 157 # 151 الألــ ایک نسخہ نیشنل لائبریری آف میڈیسن (میری لینڈ ، امریکہ ) میں بھی موجود ہے جس کا عنوان شرح علی ــفيـ ہے۔اصل نظم سرخ رنگ کی روشنائی میں جبکہ شرح سیاہ رنگ کی روشنائی میں لکھی گئی ہے۔www۔nlm۔nih۔gov/hmd/arabic/poetry_3۔html - ہندوستان میں کی شرح ارجوزہ 1829ء میں کلکتہ سے اور 1845101261ء میں لکھنو سے شائع ہوئی ہے۔ابن سینا اکاڈمی علی گڑھ کی ظل الرحمن لائبریری میں کلکتہ کی اشاعت محفوظ ہے۔حکمت و معرفت سے بھر پور اس طویل نظم کے چند اشعار یہاں پیش کئے جاتے ہیں: تدبير النوم 853 لا تطل النوم فتؤدى النفسا ولا تور قها فتوذى الحسا 854 وطول التوم لغير المتهضم من الطعام او على أثر التخم 855 ولا تطل نوماً بوقت الجوع تبخر الراس من الرجيع 856 نم با ستسناد اثر الطعام حتى يحل موضع انهضام ذكر اصناف الادوية 997 و ها انا اذكر من عقار ما يخرج الاخلاط بالاحدار 998 و ما تراه غالب المزاج وما له في الخلط من اخراج " 999 و ما به تفتح اوتلین ما و به تحرق او تعفن 1000 و ما به تنضج او تصلب وما يسد فتحاً او ما يجذب 66