ابن رشد

by Other Authors

Page 63 of 161

ابن رشد — Page 63

سراسر کتابی تھا، لیکن یہ کتابی یا نظری مطالعہ بہت وقیع تھا اسی لئے تو اس نے طلب پر میں کتابیں لکھیں۔نیز طب کا علم اس وقت بھی اس کے کام آیا جب اس نے ارسطو کی نیچرل ہسٹری کی کتابوں جیسے کتاب الحیوان کی شرح لکھی۔جالینوس کی کتابوں اور طبی نظریات کے بارے میں بھی اس کا علم بہت وسیع تھا۔(18) کہتا تھا کہ اچھی صحت برقرار رکھنے کے لئے اچھا باضمہ اور ہر روز اجابت با فراغت ضروری ہے۔مسلمان اطباء کا کام اپنے مریضوں کے علاج کے ساتھ ساتھ ان کی صحت کو برقرار رکھنے کی کوششوں سے بھی تھا۔غذا جو انسان کھاتا ہے اس کو بڑی اہمیت دی جاتی تھی۔اگر نا مناسب غذا کھانے سے بیماری لاحق ہو جاتی تو طبیب ایسی غذا تجویز کرتے جس سے برے اثرات کم ہو جاتے۔غذا اور صحت کے موضوع پر کے دوست ابو مروان ابن زہر کی تصنیف کتاب الاغذیہ بہت اہمیت رکھتی ہے۔ابن زہر کا کہنا تھا کہ سردیوں میں زیادہ کھانا چاہئے بنسبت گرمیوں کے کیونکہ سردیوں میں نظام ہضم زیادہ تیز ہوتا ہے۔موسم سرما میں ایسی خشک غذا ئیں تناول کریں جن کی تاثیر گرم ہو۔ان تمام باتوں سے آگاہ تھا۔اس نے کتاب الکلیات میں تاکید کی ہے کہ امراض کے علاج کے لئے ابن زہر کی کتاب کا مطالعہ از حد بنیادی ہے (17) - کلیات لکھنے کی غرض وغایت اس نے یوں بیان کی ہے۔میں نے اس تصنیف میں فن طب کے امور کلیہ کو جمع کر دیا ہے اور ایک ایک عضو کے امراض کو الگ الگ بیان نہیں کیا ہے کیونکہ اس کی کچھ ضرورت بھی نہیں ہے۔یہ باتیں امور کلیہ سے مستنبط ہوتی ہیں۔لیکن جب کبھی مجھے ضروری امور سے فرصت ہوئی تو میں اس موضوع پر کچھ لکھنے کی کوشش کروں گا۔فی الحال ابو مروان ابن زہر کی کتاب التیسیر اس کے لئے کافی ہے جو میری فرمائش پر اس نے قلم بند کی ہے۔" امور کلیه یعنی کلیات فی الطب سے مراد طب کے عام اصول و قواعد ( general Principles of Medicine) ہیں۔اس کے برعکس جزئیات فی الطب (پارتیکولرز آف میڈلین (Particulars of Medicine ) سر سے پاؤں تک کے امراض کا بیان ہے۔چنانچہ نے کلیات پر کتاب لکھی اور اس کے دوست ابن زہر نے اس کی فرمائش پر جزئیات پر کتاب لکھی تا کہ صنعت طب پر یہ دونوں کتابیں مستند مجموعہ بن جائیں۔جزئیات میں سر سے پاؤں تک کے تمام اعضاء کا مشاہدہ کیا جاتا ہے اور ہر عضو کو لاحق ہونے والی بیماری کا ذکر کیا جاتا ہے پھر ان کا علاج کلیات میں تلاش کیا جاتا ہے۔کتاب الکلیات میں جالینوس کے طریق علاج پر کافی انحصار کیا گیا ہے البتہ بقراط کا ذکر بھی کہیں کہیں کیا ہے۔اس کتاب میں نے ابن زہر کو جالینوس کے بعد دنیا کا سب سے عظیم طبیب قرار دیا تھا۔کتاب الكليات سات حصوں میں تقسیم ہے۔تشریح الاعضاء (Anatomy of Organs)۔63