ابن رشد

by Other Authors

Page 62 of 161

ابن رشد — Page 62

پتہ اس نے مطب کے دوران سیکڑوں مریضوں کے مینی مشاہدات سے لگایا ہوگا بہر حال مسمی طریقہ دریافت پر اس کی سوانحی کتابیں خاموش ہیں۔دوسری دریافت یہ تھی کہ آنکھ کا پردہ بصارت (Retina) نہ کہ عدسہ (Lens) آنکھ میں فوٹو رسیپٹر (Photo Receptor) کا کام کرتا ہے۔یہ دریافت بھی کوئی آسان دریافت نہیں تھی کیونکہ ابن رشد سے قبل تمام بڑے بڑے ماہرین امراض چشم (جیسے حسین ابن الطق) خیال کرتے تھے کہ اشیا کے دیکھنے میں آنکھ کا عدسہ بنیادی حیثیت رکھتا ہے، مگر نے کہا کہ عدسہ نہیں بلکہ بینائی کی جس پر وہ بھارت میں ہوتی ہے sense of sight originates in the retina) - پردہ بصارت ( ریٹینا ) کی وضاحت یوں کی جاسکتی ہے کہ جس طرح کیمرے کے اندر فلم ہوتی ہے اس طرح ہماری آنکھ میں رینینا ہوتا ہے۔اگر فلم کے بغیر کیمرہ بے کار ہے تو ریٹینا کے بغیر آنکھ بے کار ہے۔ریٹینا آنے والی شعاعوں کو الیکٹریکل سگنلز میں تبدیل کر کے عصب باصرہ یعنی آپنک نرو (Optic Nerve) کے ذریعے دماغ کی طرف بھیجتا ہے جس طرح ظلم ڈیولپ کی جاتی ہے۔ریٹینا کی وجہ سے ہم رنگین چیز وں کو دیکھ سکتے ہیں، اور اس کی بدولت ہمیں پیری فرل ویژن (Peripheral Vision) حاصل ہوتا ہے۔جب یہ ناقص ہو جاتا ہے تو انسان بینائی سے محروم ہو جاتا ہے۔جارج سارٹن کا کہنا ہے کہ "الکلیات میں کئی بیش قیمت مشاہدات پائے جاتے ہیں مثلاً پہلا مشخص تھا جس نے پردہ بصارت کا صحیح مصرف معلوم کیا ( اس سے پہلے ماہرین چشم خیال کرتے تھے کہ بصارت آنکھ کے عد سے میں ہوتی ہے۔) اس نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ جس شخص کو ایک بار چیچک ہو جائے پھر اسے زندگی بھر کے لئے چیچک سے چھٹکارا مل جاتا ہے۔بلاشبہ وہ مسلمہ طبیب ، بلکہ اپنے زمانے میں کرہ ارض کا عالی طبع طبیب تھا۔اصل حوالہ درج ذیل ہے: "Kulliyat contained other valuable observations; for example, Ibn Rushd seems to have been the first to understand the function of retina (earliest oculists thought that visual perception occurred in the lens); and he realized that an attack of smallpox confers immunity۔He was unquestionably a great physician, one of the greatest of his time anywhere۔" (17) ایک مغربی مصنف را جر آرنلڈس (Arnaldez) کا کہتا ہے کہ اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ آیا خلیفہ ابو یعقوب یوسف کا شاہی طبیب مقرر ہونے سے قبل مطلب کرتا تھا یا نہیں اور نہ ہی یہ معلوم ہوسکا ہے کہ وہ خلیفہ کا کس قسم کا علاج کرتا تھا یا پھر اس کا کام طبی مشورے کی حد تک تھا۔فاضل مصنف کا کہنا ہے کہ کا طلب کا علم 62