ابن رشد

by Other Authors

Page 55 of 161

ابن رشد — Page 55

مسئلہ دوم : جب خاوند فوت ہو جائے اور اس نے نکاح کے وقت مہر مقرر نہ کیا ہو اور زوجیت کے تعلقات بھی قائم نہ ہوئے ہوں تو اس صورت میں امام مانگ اور ان کے اصحاب اور اوزاعی کا مذہب یہ ہے کہ اس کے لئے کوئی مہر نہیں ہے بلکہ اس کی دلداری کے لئے کچھ دے دینا چاہئے۔عورت اس کی میراث میں بھی شریک ہوگی (16)۔غرضيك بداية المجتهد بلحاظ اسلوب تحریر، ترتیب مضامین، جمع اقوال ائمہ قوت فقلبتہ ایک بے مثل کتاب ہے۔اگر چہ فقہ کی دوسری کتا بیں بھی اسی طرز پرلکھی گئی تھیں لیکن اختصار کے ساتھ جامعیت کے لحاظ سے اس جیسی کوئی کتاب نہیں ہے۔نے فقہ کے بارے میں جس علمی استدلال اور واقفیت کا ثبوت دیا ہے اور جس طرح اصولی طرز پر محاکمہ کیا ہے اس کے بعد یہ کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ بلا شبہ وہ اپنے زمانے کے مجتہد اعظم تھے۔یورپ میں اگر چہ وہ شارح ارسطو تھے لیکن مسلمانوں کے لئے ان کا ایک تمغہ امتیاز ان کا رتبہ اجتہاد بھی رہا ہے۔کا علم کلام علم کلام فلسفہ کی پیداوار ہے۔اندلس میں عام طور پر فلسفہ و منطق کی درس و تدریس کو بہ نظر استحسان نہیں دیکھا جاتا تھا اس لئے وہاں علم کلام زیادہ ترقی نہیں کر سکا۔اس کے باوجود ابن حزم نے فلسفہ و منطق میں کمال پیدا کیا اور علم کلام پر دو مستند کتابیں لکھیں۔اندلس میں اشعری مذہب کے رائج ہونے کے بعد تاویل کی بحث نے وہاں شدت اختیار کر لی اور مسلمانوں میں دو گروہ پیدا ہو گئے ، ایک تاویل کو جائز اور دوسرانا جائز خیال کرتا تھا۔علماے سلف آیات متشابہات میں تاویل کو نا جائز سمجھتے تھے۔لیکن اشاعرہ نے ان میں بڑے شدومد سے تاویل کی۔اس اختلاف سے یہ مسئلہ معرکۃ الآراء بن گیا۔در حقیقت تاویل کے پروہ میں ان لوگوں نے اور دوسرے فلسفیوں نے شریعت کی بیخ کنی شروع کر دی تھی۔علم کلام میں اس طرح دو اہم مسئلے پیدا ہو گئے تھے۔اول یہ کہ فلسفہ اور شریعت میں با ہمی تعلق کیا ہے؟ دوم نصوص شرعیہ میں تاویل جائز ہے یا نہیں ؟ فقہاء کا گروہ کہتا تھا کہ فلسفہ کی تعلیم جائز نہیں کیونکہ اس سے عقائد میں ضعف پیدا ہوتا ہے۔دوسرا گروہ کہتا تھا کہ فلفہ عین دین ہے اور فلسفہ جو عبیر کرتا ہے وہی شریعت کی صحیح تعبیر ہے۔جیسا کہ ہر ظاہر کا باطن ہوتا ہے، بعینہ شریعت ظاہر ہے اور فلسفہ باطن۔میں یہ دونوں خصوصیات جمع ہوگئی تھیں۔ایک طرف وہ مجتہد اور فقیہ اور دوسری طرف محقق فلسفی تھا۔وہ عقل اور مذہب دونوں کو ایک دوسرے کا محمد ومعاون دیکھنا چاہتا تھا۔فصل المقال میں فرمایا : جو لوگ فلسفی کہلاتے ہیں ان سے شریعت کو زیادہ نقصان پہنچا ہے، کیونکہ دوست سے جو تکلیف ملتی ہے وہ دشمن کی دی ہوئی تکلیف سے 55