ابن رشد

by Other Authors

Page 54 of 161

ابن رشد — Page 54

( ترجمہ تم پر کوئی گناہ نہیں ہو گا اگر تم بیویوں کو ایسی حالت میں طلاق دے دو جبکہ تم نے ان کو چھوا تک نہ ہو اور نہ ہی مہر مقرر کیا ہو۔) اس بارے میں دو مواقع پر اختلاف کیا گیا ہے۔اول : جب بیوی مہر مقرر کرنے کا مطالبہ کرے اور میاں بیوئی کا مقدار مہر میں اختلاف ہو۔دوم: جب خاوند فوت ہو جائے اور اس نے نکاح کے موقعے پر مہر مقرر نہ کیا ہو۔مسئلہ اول کے متعلق فقہاء کے ایک گروہ کا مذہب یہ ہے کہ اس کا مہر مثل مقرر کیا جائے گا۔اگر خاوند اس اختلاف کے دوران بیوی کو طلاق دے دے تو اس صورت میں بعض کے نزدیک اس کا نصف مہر ادا کرے اور بعض کے نزدیک اس کا کوئی مہر نہیں ہے۔کیونکہ نکاح کے موقعے پر اس کا کوئی مہر مقرر نہیں تھا۔یہ مذہب امام ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب کا ہے۔امام مالک کے نزدیک مسئلہ اول میں خاوند کو تین اختیارات دئے جائیں گے۔اول بیوی کو مہر مقرر کئے بغیر طلاق دے دے۔دوم عورت کے مطالبہ کے مطابق اس کا مہر مقرر کر کے سوم مہر مثل مقرر کرے۔وجه اختلاف یہ بحث اللہ تعالی کے ارشاد ( سورة بقرة ، آیت : 236) کے سلسلے میں اختلاف کی بناء پر ہے۔بعض کے نزدیک یہ آیت مہر کے سقوط کے متعلق ایک عام حکم بیان کرتی ہے خواہ طلاق کی وجہ مہر مقرر نہ کرنے کا معاملہ ہو یا کوئی اور وجہ ہو۔نیز اس آیت میں گناہ کی نفی سے مراد یہ ہے کہ طلاق دینے والے پر مہر واجب نہیں ہے یا اس کا کوئی اور مطلب ہے ؟ اس کے متعلق فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک ظاہر مفہوم تو یہی تقاضا کرتا ہے کہ ایسی صورت میں طلاق دینے والے پر مہر واجب نہیں ہوتا جیسا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے: و متعوهن على الموسع قدره وعلى المقتر قدره ( سورۃ بقرہ، آیت:236) ( ترجمہ : اور چاہئے کہ تم انہیں مناسب طور پر کچھ سامان دے دو۔دولت مند پر اس کی حیثیت کے مطابق اور نا دار پر اس کی حیثیت کے مطابق )۔کہتے ہیں کہ میرے نزدیک اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں کہ اگر کوئی شخص مہر مقرر کرنے سے قبل طلاق دے دے تو اس پر کچھ واجب نہیں ہے۔مزید فرماتے ہیں کہ جولوگ اس بات کے قائل ہیں کہ اگر کوئی شخص تعلقات زوجیت سے قبل اپنی بیوی کو طلاق دے دے جبکہ نکاح کے وقت اس کا حق مہر مقرر ہو چکا ہو تو اس صورت میں خاوند پر نصف مہر کے علاوہ کچھ امداد بھی کرنی ہوگی جو نقد مال یا کپڑوں کی صورت میں ہو سکتی ہے۔اور وہ لوگ جو اس بات کے قائل ہیں کہ جس نکاح میں مہر مقرر نہیں ہوا ان کے نزدیک مہر مثل واجب ہو جاتا ہے ان پر یہ واجب ہے کہ وہ ایسے نکاح میں اگر مجامعت سے قبل طلاق ہوئی ہو تو ز 1 کے سامان کے علاوہ مہرشل کا نصف بھی ادا کریں کیونکہ آیت سے صرف اتنا ثابت ہوتا ہے کہ مہر مقرر کرنے سے قبل طلاق دی جا سکتی ہے۔مہر کے ساتھ ہونے کا براہ راست اس آیت کر نیمہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔54 4