ابن رشد — Page 56
زیاد سخت ہوتی ہے۔فلسفہ شریعت کی سہیلی اور اس کی رضاعی بہن ہے اس لئے ایک فلسفی سے جو تکلیف پہنچتی ہے وہ بہت زیادہ تخت ہوتی ہے، یوں شریعت اور فلسفہ میں باہم جنگ چھڑ جاتی ہے حالانکہ دونوں حقیقت میں با ہم دوست اور متحد ہیں" (صفحہ 26-25) بعض فلاسفہ نے شریعت میں تاویلیں کر کے اسلام کے عقائد کو مسخ کرنے کی کوشش کی تھی۔فلاسفہ کے علاوہ بعض اہل اسلام نے تاویل کا دروازہ کھول کر خود اپنے آپ کو نقصان پہنچانا شروع کر دیا تھا، اس لئے اتنے بہت سے فرقے پیدا ہو گئے تھے۔کا کہنا تھا کہ مجتہد میں ذات الفطرة (keen sense of truth) کے علاوه العدلته الشريعة ethical virtue ) کا ہونا ضروری ہے۔تمام لوگ دلائل سے ثبوت ملنے پر یقین نہیں لاتے بلکہ بعض لوگ الاقاویل المجد لیہ اور بعض خطابیہ سے تصدیق کرتے ہیں۔قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے کہ خدا انسانوں سے تین قسم کے طرز استدلال سے گفتگو کو سحسن جانتا ہے: ادع الى سبيل ربك بالحكمة والموعظة الحسنة و جادلهم بالتي هي احسن (16:125) ترجمہ : آپ اپنے رب کی راہ (دین) کی طرف علم کی باتوں اور اچھی نصیحتوں کے ذریعہ بلائے ، اور (اگر بحث آن پڑے تو ) ان کے ساتھ اچھے طریقے سے بحث کیجئے (اس میں شارت نہ ہو)۔بھی اگر چہ فلسفی ہونے کے ناطے سے شریعت کے بعض نصوص کی تاویل کو ضروری قرار دیتا تھا لیکن اس کے لئے اس کے نزدیک شرط یہ تھی کہ ایسا صرف دلوگ کر سکتے ہیں جو صاحب نظر اور ماہر دین ہوں۔وہ ہر کس و ناکس کے لئے تاویل کونا جائز قرار دیتا تھا، اس کے نزدیک عوام کو صرف ظاہری معنوں کی تلقین کرنی چاہئے۔علم کلام پر نے درج ذیل تصانیف عالیہ قلم بند فرمائیں: فصل المقال فيما بين الحكمة و الشريعة بين الاتصال۔ذيل فصل المقال، الكشف عن منا هيج الادله في عقائد الملة شرح عقيده ابن تومرت الامام المهدي، تهافت التهافت الفلاسفہ - ایک رسالہ اس عنوان پر کہ عالم کے حدوث کے متعلق فلاسفہ اور متکلمین میں حقیقتاً کوئی اختلاف نہیں۔ان معرکۃ الآراء کتابوں میں سے دوکا خلاصہ یہاں پیش کیا جاتا ہے۔فصل المقال فصل المقال کی مایہ ناز تصنیف ہے۔فقہ میں یہ کتاب غیر معمولی سرمایہ خیال کی جاتی ہے۔کتاب کے مطالعہ سے مصنف کی جامع کمالات شخصیت کے بے شمار گوشے سامنے آتے ہیں۔در حقیقت یہ کتاب اس کی شخصیت کی ایسی آئینہ دار ہے جس میں اس کی ندرت فکر اور اسلوب کے گوشوں کا عکس منور نظر آتا ہے۔اس کے زور 56