ابن رشد — Page 53
اختلاف کی مثال نکاح سے متعلق نکاح کی تین بنیادی شرائط ہیں : ولی گواہ اور حق مہر۔ولی کے کیا اوصاف ہونے چاہئیں؟ تمام فقہا ، اس بات پر متفق ہیں کہ دلی مسلمان بالغ مرد ہونا چاہئے۔لیکن تین اشخاص کے متعلق اختلاف ہے: غلام، فاسق اور بیوقوف ( جو نفع و نقصان میں فرق نہ کر سکے )۔غلام کے متعلق اکثر فقہاء کا مذہب یہ ہے کہ اس کی ولایت درست نہیں ہے لیکن امام ابو حنیفہ کے نزدیک درست ہے۔(یہ حکم آج کے دور پر چسپاں نہیں ہوتا کیونکہ غلامی غیر قانونی قراردی جاچکی ہے)۔رشد یعنی نیکی کے متعلق اصحاب مالک کا مذہب یہ ہے کہ یہ امر ولایت کے لئے شرط نہیں ہے۔ان کے شاگردوں میں سے اشہب اور ابو مصعب اس روایت کے حامی ہیں۔اور یہی مذہب امام ابو حنیفہ گا ہے۔لیکن امام شافعی کے نزدیک رشد بھی گواہ کے لئے ایک ضروری شرط ہے۔سمجھداری سے مراد وہ صفت ہے جس کے ماتحت کوئی شخص نفع اور نقصان میں تمیز کر سکتا ہے۔وجه اختلاف اس اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ آیا نکاح کی ولایت مال کی ولایت کے مشابہ ہے یا نہیں ؟ جن کے نزدیک رشد ولایت نکاح میں ضروری ہے لیکن ولایت مال میں ضروری نہیں انہوں نے ولایت مال کے لئے رشد کا پایا جانا ضروری نہیں قرار دیا۔کے نزدیک ولایت مال اور ولایت نکاح دونوں کے لئے رشد کا پایا جانا ضروری ہے لیکن ولایت نکاح اور ولایت مال دونوں میں رشد کے مدارج میں فرق کرنا پڑے گا۔ولی کے عادل ہونے کے بارے میں اختلاف اس وجہ سے ہے کہ ولی کے غیر عادل ہونے کی صورت میں اس بات کا اندیشہ باقی رہتا ہے کہ وہ ایسا رشتہ تجویز کر دے جو غیر مناسب ہو اور لڑکی کے معیار کے مطابق نہ ہو۔ولایت نکاح کا فریضہ تقاضہ کرتا ہے کہ ولی عادل ہو۔کہتے ہیں کہ ولایت نکاح کے لئے جن اوصاف کی ضرورت ہے ان میں عدالت کا شمار نہیں ہوتا کیونکہ معیاری رشتہ تلاش کرنے کا اصل محرک تو انسان کا یہ احساس ہے کہ لوگ اسے یہ طعنہ نہ دیں کہ اس نے ایسا رشتہ تلاش کیا جو اس کے شایان شان نہیں ہے۔عادل سے مراد ایسا شخص جو معاشرے میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہو۔(15) بغیر مہر کے نکاح اس بات پر سب فقہاء کا اتفاق ہے کہ ایسا نکاح جس میں مہر مقرر نہ کیا گیا ہو جائز ہے۔یعنی نکاح کی صحت کے لئے مہر کا مقرر کرنا ضروری نہیں ہے۔البتہ رخصت کے بعد مہر واجب ہو جائے گا۔اللہ تعالی کا ارشاد ہے لا جناح عليكم ان طلقتم النساء ما لم تمسو هن او تفرضوا لهن فريضة (بقرة آيت : 236) 53