ابن رشد — Page 46
جائے تو اس کو عدالت میں مقدمہ دائر کرنا لازم ہوتا ہے اور یہی کچھ اس مقدمے میں ہوا۔فقہہ اور اصول فقہہ پر کتابیں قاضی القضاۃ کے عہدے پر فائز ہونے کے بعد نے فقہ کا رخ ہی بدل دیا۔اگلے دس سال میں اس نے طب، فلسفہ اور علم کلام میں متعدد بصیرت افروز کتابیں تصنیف کیں۔وہ تمام امور میں اجتہاد سے کام لیتا تھا اور جدید ملکی تقاضوں کے پیش نظر فروعی مسائل میں اپنے اجتہاد سے فیصلے کرتا تھا۔اس اجتہاد کی وجہ سے اسے ملک گیر شہرت حاصل ہوئی۔چنانچہ خلیفہ ابو یعقوب یوسف بن عبد المومن کی 1184ء میں وفات کے بعد جب اس کا بیٹا ابویوست یعقوب (المحصور ) تخت نشین ہوا تو اس نے ملک کے تمام فقہاء کو حکم دیا کہ کسی امام یا مجتہد کی تقلید نہ کریں بلکہ خود اپنے اجتہاد سے فیصلہ کریں۔چنانچہ تمام عدالتوں میں فروع فقہ کی پابندی اٹھادی گئی اور جو فیصلہ کیا جاتا وہ قرآن مجید، حدیث، اجماع اور قیاس کی مدد سے ائمہ فقہ کی آراء کی روشنی میں کیا جاتا۔فقہ اور اصول فقہ پر نے آٹھ گراں قدر کتا بیں تصنیف کیں۔ان میں بداية المجتھد کو خاص مقبولیت حاصل ہوئی اور اس کی شخصیت چاند ستاروں کی طرح جگمگانے لگی۔اس کے علاوہ خلیفہ منصور نے اس کو اپنا مشیر خاص مقرر کیا ، وہ اکثر فرصت کے اوقات میں دوستانہ ماحول میں اس سے علمی مسائل پر گفتگو کرتا اور اس کے صائب مشوروں سے خاطر خواہ فائدہ اٹھاتا تھا۔اس یا ہمی انس و مودت کی بناء پر خلیفہ منصور کو برادر من کہہ کر مخاطب کرتا۔فقہ اس علم کو کہتے ہیں جس میں قرآن اور حدیث کی روشنی میں مختلف مسائل کے متعلق احکام صادر کئے جائیں، اس لئے ضروری ہے کہ جو شخص فقیہ ہو وہ قرآن اور حدیث کا بھی پورا عالم ہو۔اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی لازم ہے کہ فقیہ کو قانونی مہارت کے علاوہ دنیاوی معاملات کا بھی تجربہ ہو اور الجھے ہوئے معاملات و مسائل کو شریعت کے مطابق سلجھانے کی اہمیت رکھتا ہو۔فقدان احکام شرعیہ کا بھی نام ہے جن کا تعلق انسان کے ظاہری اعمال سے ہے۔احکام سے مراد وہ عملی مسائل ہیں جو انسان کو روزمرہ کی زندگی میں پیش آتے ہیں۔خواہ وہ مسائل عبادات (نماز، روزه، حج ) یا معاملات (خرید و فروخت، ٹھیکہ، شرکت ) سے متعلق ہوں۔گویا روز مرہ زندگی کے مسائل شرعی سند کے ساتھ پیش کرنے اور ان پر عمل در آمد کرنے کی تلقین کرنے والے علم کا نام فقہ ہے۔فقہ کا اطلاق دینی اور دنیاوی دونوں قسم کے مسائل پر ہوتا ہے اس لئے فقہ کو دو بڑی قسموں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔اول عبادات یعنی دینی امور ( نماز، زکوۃ، روزہ ، حج کے احکام کی 46