ابن رشد

by Other Authors

Page 47 of 161

ابن رشد — Page 47

تفصیل) - دوم دنیا دی امور ( عقوبات یعنی حدود تعزیرات ، مناکحات یعنی نکاح خلع ، ایلاء ، ظہار اور معاملات بیع : شرا، اجاره، ٹھیکہ، عاریت، امانت ، ضمانت ، شرکت معه لحت شفعه ) وغیرد کا تعلق چونکہ مالکی مسلک سے تھا اور وہ لکی مسلک کے مطابق قاضی کی حیثیت سے فرائض انجام دیتا تھا اس لئے یہاں امام مالک کے مختصر حالات پیش کئے جاتے ہیں۔امام مالک مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے ، تمام زندگی مدینہ میں رہے اور وہیں مدفون ہوئے۔وہ مدینہ کے معزز امام ، فقیہ اور محدث امام شافعی کے استاد تھے۔علم حدیث میں ان کی کتاب موطا کے متعلق امام شافعی نے فرمایا ہے کہ کتاب اللہ کے بعد روئے زمین پر امام مالک کی کتاب سے زیادہ صحیح کوئی اور کتاب نہیں ہے۔امام مسائل کے استخراج کے لئے صرف قرآن اور حدیث پر اعتماد رکھتے تھے اور جس حدیث کی سند وہ صحیح جانتے اس سے استدلال فرماتے تھے خواہ اس روایت کو صرف ایک راوی نے ہی روایت کیا ہو۔وہ اقوال صحابہ کو قابل سند قرار دیتے تھے اور نص کی عدم موجودگی میں اپنے اجتہاد کے مطابق فتوی دیتے تھے۔جب ان کو کسی مسئلہ کے متعلق علم نہ ہوتا تو اس کے متعلق مسئول سے کہہ دیتے لا ادری ( میں نہیں جانتا۔مالکی مذہب پورے حجاز میں پھیلا ہوا تھا لیکن بعد میں صرف اندلس الجزائر، تونس، طرابلس، بالائی مصر، سوڈان، بحرین میں محدود ہو کر رہ گیا۔نے فقہ پر 8 شاہکار کتابیں قلم بند کیں۔بداية المجتهد و نهاية المقتصد، كتاب لمقدمات الفقه خلاصه المستقى للغزالي في اصول فقه، اسباب الاختلاف، الدروس الكاملة في الفقه۔مقاله في الضحايه، فرائض السلاطين والخلفاء، كشف عن المنا هيج الادلة۔کشف کا جرمنی زبان میں ترجمہ میکس میولر (Max Muller) نے 1859ء میں فصل المقال کے ہمراہ فلاسفی انڈ تھیولوجی وان ایور روی Philosophie und theologic von Averroes) کے عنوان سے میونخ سے شائع کیا۔علم فقہ پر اس کی معرکتہ الآراء کتاب بداية المجتهد قاہرہ سے آخری بار 1966ء میں شائع ہوئی تھی۔یہ علم الاختلاف کے موضوع پر بے نظیر اور جلیل القدر کتاب ہے۔انگریزی میں اس کا ترجمہ پروفیسر احسن خان نیازی (اسلام آباد) نے دو جلدوں میں کیا ہے۔سے قبل یا لعموم فقہ کی کتابوں میں فروعی مسائل جمع کر دئے جاتے تھے اور قاری یہ معلوم نہیں کر سکتا تھا کہ کس فروعی مسئلے کو کس اصول کے تحت مستنبط کیا گیا ہے۔اور کیا بیان کردہ مسئلہ کا کوئی مخالف پہلو بھی ہے یا نہیں؟ اور اگر ہے تو اسے بیان کرنے والا کس اصول سے اخذ کرتا ہے۔نے مسئلہ کے موافق اور نالف پہلو بیان کر کے ہر ایک مذہب کے تائیدی دلائل بیان کئے۔اور اگر ان بیان کردہ مسائل میں سے کسی ایک سے بھی اتفاق نہ ہو تو اس نے اس مسئلہ میں اپنا اجتہاد پیش کر کے اختلاف بیان کو دلائل صحیحہ سے واضح کیا۔اس نے قرآن پاک کی دو 47