ابن رشد

by Other Authors

Page 45 of 161

ابن رشد — Page 45

القضاة تمام عدالتی انتظامیہ کا ذمہ دار ہوتا اور وہی صوبوں میں قاضی مقرر کرتا تھا۔ایک مقدمے کا فیصلہ مراقش کے تیرہویں صدی کے معروف مؤرخ عبد الواحد مراقشی نے کے ایک مقدمے کا ذکر کیا ہے: قرطبہ میں ایک نامور ، دانشور استاد تھا جس کو لوگ وزاغی (چھپکلی ) کہتے تھے۔اس کے ایک شاگرد کو لوگ غرنوق (ساری) کہہ کر بلاتے تھے۔غرنوق ایسے نوجوان کو بھی کہتے ہیں جس کا چہرہ نہایت خوبصورت ہو۔اس استاد کے دیگر شاگردوں کو شک ہوا کہ شاید ہمارا استاد اس پری چہرہ لڑکے کے عشق میں مبتلا ہے۔جب کہ فی الحقیقت ایسی کوئی بات نہیں تھی کیونکہ خدا نے استاد کو اس گناہ سے محفوظ رکھا تھا۔ایک طالب علم نے استاد کی ہجو ملیح لکھی جو کچھ اس طرح تھی: اے دیوار پر چپکی چھوٹی سی چھپکلی ایک دلفریب پرندہ تمہارا دل بہلاتا ہے کیا ایسی چیز ممکن ہے؟ تم تو دیواروں پر چپکی رہتی ہوجبکہ و د پرواز کرتا ہے۔استاد کو جب اس جو کا علم ہوا تو اس نے کی عدالت میں بہتک عزت کا مقدمہ دائر کردیا۔نے سماعت کے بعد شاعر کو جسمانی سزاسنائی۔مورخ نے سزا کی تفصیل بیان نہیں کی لیکن یہ سزا قرآن میں بیان کردہ حد کے سوا کوئی اور نہیں ہو سکتی۔یعنی شاعر قذف کا مورد ہوا جس میں اسی (80) کوڑے لگائے جانے کا حکم ہے۔قذف کا جرم اس وقت سرزد ہوتا ہے جب کوئی شخص کسی نیک بے گناہ انسان پر چار گوادلائے بغیر کسی گندے فعل کے ارتکاب کا الزام عائد کرتا ہے۔قرآن پاک (24:4) میں نیک عورتوں (محسنات ) کے خلاف گندی افواہ پھیلانے کا ذکر کیا گیا ہے: والذين يرمون المحصنت ثم لم ير تابو ١ باربعة شهدا فاجلدو هم ثمنين جلدة ولا تقبلوا لهم شهادة ابداً" (النور) اور جو لوگ تہمت لگائیں پاک دامن عورتوں کو اور پھر چار گواہ (اپنے دعوے پر ) نہ لا سکیں تو ایسے لوگوں کو اشتی درے لگائے جائیں اور ان کی گواہی آئندہ کبھی نہ قبول کی جائے )۔قاضی نے تہمت لگانے کی سزا اجتہاد کر کے اس شاعر پر لاگو کر دی۔اگر چہ آئت کریمہ میں خاص واقعے کا ذکر ہے لیکن اس میں عمومی حالات بھی شامل ہیں۔یادر ہے کہ مالکی مذہب کے مطابق کسی پر بہتان لگایا 45 +