ابن رشد

by Other Authors

Page 44 of 161

ابن رشد — Page 44

مغربی مصنف را جر آرنلڈس نے کی دیو قامت علمی شخصیت کو درج ذیل چند گنے چنے الفاظ میں بیان کر کے گویا سمندر کو کوزے میں بند کر دیا ہے: "It is unquestionable that his openness of mind, his rigorous method, his analyses, not to mention his innovations, several of which can put us onto the path of new research, are examples which can still be profitably utilized today in the teaching of Philosophy۔" ( 13) ( اس بارے میں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ اس کی وسیع النظری ، اس کا سخت ( سائنسی ) طریق کار، تجزیہ ، اور وہ جد میں جو اس نے کیں جن میں کئی ایک اب بھی نئی ریسرچ کی طرف ہماری رہنمائی کر سکتی ہیں، یہ ایسی مثالیں ہیں جن کو فلسفہ کی تعلیم میں اب بھی سود مند طریقہ سے استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔) اس باب کا خلاصہ چھ لفظوں میں یہ ہے: علم کا سمندر تھا۔ایک بے مثل فقیہ ایک بے مثل فقیہ تھا اور فقہی معاملات میں ید طولیٰ رکھتا تھا۔یہ علم اور ذوق اسے دادا اور باپ سے وراثت میں ملا تھا۔قانونی مہارت اس کے رگ وریشہ میں رچی ہوئی تھی۔فقہ اور حدیث میں اس کی مہارت کا یہ عالم تھا کہ بقول ابن الآبار ان علوم میں اندلس میں اس کا کوئی ثانی نہ تھا۔اس کی زبر دست علمیت اور شہرت کے پیش نظر 1169ء میں اسے اشبیلیہ کا قاضی مقرر کیا گیا۔دو سال بعد قرطبہ کے قاضی محمد بن مغیث کی وفات پر 1171ء میں قرطبہ کے قاضی کے عہدہ پر فائز ہوا۔قاضی ایسا سرکاری افسر ہوتا تھا جس کے ہاتھ میں عدلیہ کے تمام اختیارات ہوتے تھے۔چونکہ خلیفہ ملک کا حکمراں ہوتا تھا اس لئے قاضی کا تقرر خلیفہ خود کرتا تھا۔اندلس میں قاضی کی معاونت کے لئے مجلس شوری ہوتی تھی جس سے وہ مشورہ کرتا تھا۔مشاورت کا اصول قرآن پاک کی آیت کریمہ 42:38 و شاورهم في الامر اپنی تھا۔اس لئے قاضی کے سامنے جب کوئی مشکل مقدمہ سماعت کے لئے آتا، تو دوان اراکین سے مشورہ کرتا تھا۔قاضی کے لئے دیوانی اور فوجداری معاملات میں صلاحیت رکھنا ضروری ہوتا تھا جن کے فیصلے شریعت کے قوانین کے مطابق کئے جاتے تھے۔مزید برآں قاضی کے لئے مختلف اسلامی مذاہب کے عقائد اور اصولوں کا علم رکھنا بھی ضروری ہوتا تھا تا کہ وہ مقدمہ کا فیصلہ فریقین کے مسلک کے مطابق کر سکے۔اندلس میں قاضی الجماع ( کمیونٹی حج ) کو قاضی القضاۃ کہا جاتا تھا۔جس کا رواج بغداد کی عباسی خلافت کی طرز پر تھا۔قاضی 44