ابن رشد

by Other Authors

Page 43 of 161

ابن رشد — Page 43

کرتا ہے جو کہ یونانی عدلیہ کی طرف صریح اشارہ ہے۔نے اس آئیڈیا کو اندلس کے اسلامی ماحول کے مطابق ادا کیا تا کہ لوگ اس کا مفہوم آسانی سے سمجھ سکیں۔شہادت کے بارے میں ارسطو کہتا ہے کہ مدعی خود اپنی شہادت پیش کر سکتا ہے لیکن اس کے لئے مدعی کی شخصیت کو محوظ خاطر رکھنا ضروری ہے۔نے اس کی شرح یوں کی کہ اول شہادت تو یہ ہے کہ مدعی جب اپنے حق میں بیان دیتا ہے تو وہ اپنی قابلیت خود ثابت کرتا ہے جس کے ذریعہ اس کو قابل اعتماد سمجھا جاتا ہے۔اس دلیل کے حق میں نے قرآن پاک کی آیت 68: 7 و انا لکم ناصح امین (اور میں تمہارے لئے قابل اعتماد نصیحت کرنے والا ہوں) پر انحصار کیا جو حضرت ہود نے بطور شہادت کے کہا تھا۔ایک مسلمان بیج کی حیثیت سے اس طرح اس نے یونانی فلسفہ اور اسلامی قانون میں تطبیق اور ہم آہنگی پیدا کی۔جیسا کہ ذکر کیا گیا کہ یونانی تہذیب سے اس کی واقعیت بہت محدود تھی اور یونانی زبان سے یاد اللہ راجبی ہی تھی اس لئے اس نے بعض مرتبہ یونانی حکما کے ناموں کے سلسلہ میں غلطی کھائی اور دو مختلف افراد کو ایک سمجھا جیسے وہ فیثا غورث (Pythagoras) اور ڈیمو کریٹس (Democrates) میں فرق نہ کر سکا۔وہ یونانی ادب سے بھی نا واقف تھا اس لئے یونانی شاعری کی متعدد اقسام ٹریجڈی کامیڈی ، ڈرامہ اور ایک (epic) میں فرق نہیں کر سکا۔اس نے سمجھا کہ ٹریجڈی ، مدحیہ شاعری اور کامیڈی ہجو آمیز شاعری کا نام ہے۔اس نے اہل عرب کے کلام بلکہ قرآن مجید سے بھی ان کی مثالیں تلاش کرنے کی بے سود کوشش کی۔یونانی فلاسفہ اور فلسفہ کے مختلف گروہوں کے ناموں کو بھی اس نے خلط ملط کر دیا۔مگر یادر ہے کہ ایسی فاش غلطیاں دوسرے مسلمان شارحین ارسطوت بھی سرزد ہوئی تھیں جیسے ابن سینا کتاب الشفاء میں رقم طراز ہے کہ کامیڈی وہ نظم ہے جس میں کسی شخص کے افعال قبیحہ کھول کر بیان کئے جاتے ہیں۔یونانی فلسفیوں میں اسکندر افرود روی (Alexander of Aphrodisia) نے ارسطو کے فلسفہ پر شروح لکھی تھیں، نے اس کے خیالات کو ہدف تنقید بنایا۔ابن باجہ کو دو اندلس میں فلسفہ کا باوا آدم کہتا تھا۔ابن سینا کی اس نے مخالفت کی جس کا سبب اس کی مذہب کی تردید ہے۔امام غزائی سے اس کی مخالفت کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے فلسفہ کو برا اور فلسفیوں کو زندیق قرار دیا تھا۔ارسطو کے ساتھ اس کی شیفتگی انتہائی درجہ کی تھی وہ اس کو صاحب المنطق کے لقب سے یاد کرتا تھا۔ارسطو کی تعریف و توصیف کے باب میں اس نے لکھا ہے کہ جس شخص کو ایسی نعمتیں ودیعت کی گئی ہوں اسے انسان کے بجائے دیوتا کہا جائے تو بجا ہے۔ایک اور جگہ لکھا کہ ارسطو کے مسائل بالکل حق ہیں، چونکہ اس کا دماغ ذکاوت انسانی کی انتہا ظاہر کرتا ہے اس لئے یہ کہنا بجا ہوگا کہ خدا نے اتنی اعلی وارفع تعلیم دینے کے لئے اس شخص کو پیدا کیا جس قدر حاصل کرنا ہمارے امکان میں داخل تھا۔43