ابن رشد

by Other Authors

Page 37 of 161

ابن رشد — Page 37

کے دوران قرطبہ کی تاریخی مسجد اور دوسرے مقامات (مدینۃ الزہراء ) کے علاوہ کا مجسمہ بھی دیکھا تھا جس کے بائیں ہاتھ میں ایک کتاب ہے۔شہر کے اندر ایک محلہ میں موسیٰ ابن میمون کا مجسمہ بھی دیکھا جس کے پاؤں کو وہاں موجود یہودی سیاح چوم رہے تھے۔اسکور یال لائبریری کے ایک مخطوطہ میں (عربی نسخہ نمبر 879) میں کی طلب، فلسفہ، فقہ، کلام کی 80 کتابوں کی فہرست دی گئی ہے۔ان کتابوں کے کل صفحات میں ہزار بنتے ہیں۔ارنسٹ رینان نے کتاب ایوروس اور ایوروس ازم (1852 Averroes et l'Averroisme, Paris ) میں اس کی کل کتابوں کی تعداد 67 بیان کی ہے اس میں 28 فلسفہ، 5 علم کلام، 4، علم بیت 2 صرف ونحو 8 فقہ اور 20 طب کی کتابیں ہیں۔اسلامی لٹریچر میں ابن سینا کو اشیخ الرئیس الکندی کو الفيلسوف العرب، الغزائی کو الامام اور کو قاضی کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔سلطان المنصور کے شاہی فرمان پر کی فلسفہ کی کتنی کتابوں کو قرطبہ میں نذر آتش کیا گیا ، اسکا اندازہ لگانا محال ہے۔مؤرخ ابن ابی اصیحہ نے طبقات الاطباء جلد دوم میں اس کی پچاس کتابوں کے نام گنوائے ہیں۔ان کتابوں کا ایک کثیر حصہ ارسطو اور جالینوس کی کتابوں کی تفاسیر پر مشتمل ہے۔اس فہرست میں فلسفہ، طب اور فقہ پر طبع زاد کتا بیں بھی شامل ہیں۔تصانیف لاطینی میں سولہویں صدی میں ارسطو کی کتابوں کا مجموعہ ایڈ یشو پرنسپ ( Editio Princeps) کی شرحوں کے ساتھ دینیس سے پچاس مرتبہ شائع ہوا تھا۔سلی اور اٹلی کے شہنشاہ فریڈرک دوم نے جو اسلامی تہذیب کا اس قدر دلدادہ تھا کہ پادری اس پر مسلمان ہونے کا الزام عائد کرتے تھے ، اس نے کی کتابوں کے ترجمے اپنی سرپرستی میں مائیکل سکاٹ سے کرائے تھے۔اٹلی کے عالم اینڈریا الپا گو (1520 Andrea Alpago) نے بھی کی کتابوں کے چند ترجمے کئے۔غرضیکہ کی شرحوں کے تراجم نے عیسائی اور یہودی عالموں پر گہرا اثر چھوڑا۔ٹامس آرنلڈ نے اپنی کتاب لیگیسی آف اسلام (Legacy of Islam) میں کہا ہے: "Ibn Rushd belongs to Euorpe and European thought rather than to the East, In Italy his influence lived on into the 16th century۔Averroism continued to be living factor in European thought until the birth of modern experimental science۔"(11) 37