ابن رشد

by Other Authors

Page 36 of 161

ابن رشد — Page 36

؟۔نے لکھی ہے۔یہ 320 صفحات پر مشتمل ہے مسلمانوں میں سات سو سال تک گمنام رہا۔اس کے علمی شاہکاروں سے دلچسپی بیسویں صدی میں پیدا ہوئی جب ایک عیسائی عرب صحافی فرح انطون نے جوٹر پولی (لبنان) کا رہنے والا تھا، اپنے رسالہ مجلات الجامعه (اسکندریه مصر ) میں و فلسفته کے عنوان سے کئی مضامین لکھے۔ان مضامین کی اشاعت کے بعد مصر میں خوب گرما گرم بحث چھڑی جس میں علامہ حمد عبیدہ نے بھی حصہ لیا۔چنانچہ فصل المقال جو میونخ سے 1859 ء میں ایم۔ہے۔میولر ( Muller) نے شائع کی تھی وہ قاہرہ سے 1894ء میں شائع ہوئی۔پھر 1960ء میں ماجد فخری نے فیلسوف قرطبه " کے عنوان سے ایک کتاب لکھی، جومحمد موسیٰ نے 1959ء میں بین الدین والفلسفه قاہرہ سے شائع کی۔محمد لطفی جمعہ نے مسلمان فلاسفہ کے حالات پر اپنی كتاب فلاسفة الاسلام فی المشرق والمغرب میں کا مبسوط تذکرہ کیا۔دارالترجمہ جامعہ عثمانیہ نے اس کا اردو ترجمہ شائع کیا ہے۔اردو زبان میں سب سے پہلا مضمون مولوی سید حسین بلگرامی نے کی سواغ پر لکھا جو ان کے مجموعہ مضامین میں شامل ہے۔اس کے بعد مولاناشبلی نے الندوہ میں کے حالات پر طویل مضمون تحریر کیا۔پھر مولوی محمد یونس فرنگی محل نے اردو میں 389 صفحات پر مشتمل کتاب " " لکھی جو دارالمصنفین سے 1952ء میں شائع ہوئی۔قاہرہ سے دار المعارف نے 1953 ء میں ، الطبیب کے نام سے اس کی زندگی پر ایک کتاب شائع کی۔فرانسیسی زبان میں اس کی زندگی پر ایک کتاب 1948 ء میں لیو آن گا تھیر نے پیرس سے شائع کی (Ibn Rochd by Leon Gauthier, Paris)۔پچاس سال بعد اب اس کی زندگی پر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے اردو میں یہ کتاب شائع ہو رہی ہے۔رینان کے مطابق ارسطو نے کائنات کی تشریح اور نے اس کی توضیح کی۔مائیکل اسکاٹ اور راجر بیکن نے اسے ارسطوئے ثانی کیا ہے۔اس کا سب سے بڑا علمی کارنامہ ارسطو کی 38 نادر الوجود کتابوں کی شرح اور تلخیص ہے۔وہ ارسطو کو صاحب المنطق کے لقب سے یاد کرتا تھا۔یہودیوں نے یورپ میں کی کتابوں کے بہت سے تراجم کئے۔اٹلی کی پیڈ وا (Padua) یو نیورسٹی کے مطبع خانے نے اس کی سب سے زیادہ کتابیں شائع کیں۔چنانچہ ایک سو سال یعنی 1580-1480 ء کے عرصہ میں اس کی کتابوں کے ایک سو تراجم کئے گئے۔اس کی کتابوں کے عربی اور لاطینی میں قلمی نسخے میڈرڈ سے چالیس کلو میٹر دور اسکور پال لائبریری میں موجود ہیں۔راقم الحروف نے اس عالی شان محل نما کتب خانے کو 1999 ء میں دیکھا تھا۔نیز اشبیلیہ اور قرطبہ کی سیاحت 36