ابن رشد — Page 35
باب دوم ایک عظیم مصنف بحیثیت مصنف اور فقیہ عربی ادب میں کا نام آتے ہی عجب فرحت و انبساط کا احساس ہوتا ہے۔ایسا لگتا ہے جیسے کوئی بہت عمد : خوشبو سونگھ لی گئی ہے۔اس کی زندگی کے سرسری جائزہ سے اس کی زندگی کے ایسے حیرت کن گوشے سامنے آتے ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کا مطالعہ کس قدر وسیع اور اس کا ذہن کتنا تنقیدی اور تحقیقی تھا۔اس کا روشن دماغ اور عقابی نظر ہمیشہ بلند نظر مضامین پر قلم اٹھانے کے لئے سرگرداں رہتی تھی۔سچ تو یہ ہے کہ اس کا زور علم اور تنجح ہی تھا جس نے تاریخ عالم میں اس کو جائز مقام عطا کیا۔بلا شبہ فضل و کمال کا انسان تھا، اس کے باوجود مشرق میں گمنام رہا۔میرے خیال میں اس کی وجہ یھی کہ اس دور کے معاشرہ میں فلسفیوں کو نظر تحسین سے نہیں دیکھا جاتا تھا۔نیز مشرق میں فلسفہ کے رد میں امام غزالی کی کتاب تهافت الفلاسفہ کا دانشوروں پر بہت گہرا اثر تھا جس کے سبب فلسفہ، منطق کے علوم کی تحصیل کو لوگ اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتے تھے۔رفتہ رفتہ لوگوں نے سائنسی علوم کی تعلیم حاصل کرتا بند کر دی اور قوم تعرمذلت میں گرگئی۔اس موضوع پر مزید بحث اس کتاب کے چوتھے باب میں کی گئی ہے۔ارسطو کی کتابوں پر کی تفاسیر سند کا درجہ رکھتی ہیں۔انہوں نے یورپ میں شہرت دوام حاصل کی۔اس کودی کمنٹیٹر (The Commentator) یعنی شارح اعظم کے تعریفی نام سے یاد کیا جاتا تھا۔فرانس کے فاضل تاریخ داں اور فلسفی پر و فیسر ارنسٹ رینان (1892-1823 Ernst Renan) نے اس کے حالات زندگی اور فلسفہ پر ایک کتاب ایوروس ایٹ لا ایور دازم (1852 Averroes et l'Averroisme, Paris )لکھی ہے۔اس کتاب پر اس کو ڈا کٹریٹ کی ڈگری لی تھی۔اس کا انگریزی ترجمہ حیدرآباد میں کیا گیا جو 1913ء میں شائع ہوا۔اس کے بعد معشوق حسین خاں نے اس کا اردو ترجمہ کیا جو دارالترجمہ، جامعہ عثمانیہ سے 1929 ء میں شائع ہوا۔لائبریری آف کانگریس میں پر اردو میں ایک اور کتاب موجود ہے جو عبدالواحد خال(1956-1917ء) 35