ابن رشد — Page 30
طبیعت مشکل سے گوارا کرتی ہے۔(There is no virtue in being generous to a friend, but he is virtuous who gives to an enemy۔) وہ دوست و دشمن سب کے لئے فیاض تھا۔اگر اس کے کسی دوست کو کوئی بلا وجہ ہدف تنقید بناتا تو وہ یہ برداشت نہیں کرتا تھا۔کہتے ہیں کہ ایک شاعر کو اس نے اسی (80) کوڑوں کی اس لئے سزادی کیونکہ اس نے ایک عالم دین کی ہجو لکھی تھی۔به حیثیت فلسفی خدا کی ذات پر اس کا یقین گویا پتھر پر لکیر کی طرح تھا۔اس کا مشہور مقولہ ہے: He who studies anatomy increases his belief in God۔وہ تمام اسلامی عبادات اور رسومات کی پابندی فرض منشیبی سمجھتا تھا۔نہایت با حیاء کم مخرن ، حد درجہ پاک باز ، اور پا بند صوم و صلوۃ تھا۔پانچوں وقت کی نماز با جماعت مسجد میں ادا کرتا تھا۔سرور کائنات ، ہادی برحق ﷺ کو خاتم النبین دل و جاں سے تسلیم کرتا تھا۔کہتا تھا کہ ہر شخص کو سب سے اچھے دین کا پیروکار ہونا چاہتے، دیکھو جب اسلام اسکندریہ میں پہنچا تو یہاں کے علما نے اپنے مذہب کو ترک کر کے اسلام قبول کر لیا۔ہمارے دور میں سب سے کامل مذہب اسلام ہے۔ایک فلسفی اور پیغمبر کے اطوار کا موازنہ کرتے ہوئے فرمایا: Every Prophet is a philosopher, but not every philosopher can be a prophet یعنی ہر نبی فلسفی (یعنی دانائی اور حکمت کا سر چشمہ ) ہوتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ ہر فلسفی نبی بھی ہو۔اس کے ایک ہم عصر ابو محمد عبد الکبیر کا بیان ہے: کی بے دینی کے متعلق جو باتیں مشہور ہیں وہ سراسر غلط ہیں۔وہ بے دینی کے گندے جراثیم سے بالکل پاک تھا۔میں نے اس کو مسجد میں جماعت کیسا تھ نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا۔ہر نماز سے پہلے تازہ وضو کرتا تھا۔البتہ ایک بار اس کی زبان سے غلطی سے سخت کلمہ نکل گیا اس کے علاوہ اس سے کبھی کوئی اور غلطی سرزد نہیں ہوئی۔(یہاں طوفان والے واقعہ کی طرف اشارہ ہے )۔تلاوت قرآن کریم، نماز، روزه، نیز تمام شرعی احکامات کا پابند، نیک متقی ، اور مستجاب الدعوات تھا۔قرآن اور حدیث کے حوالے و امکنگ انسائیکلو پیڈیا کی طرح از بر تھے۔زندگی کے آخری ایام میں اس کے دشمنوں نے اس کے متعلق غلط سلط باتیں مشہور کر دی تھیں ان میں ایک یہ تھی کہ وہ بے دین تھا جیسا کہ عام طور پر فلسفی ہوا کرتے ہیں۔رفتہ رفتہ یہ بات اس کے کیریکٹر کا حصہ بن گئی۔خاص 30