ابن رشد — Page 31
طور پر اس بات کو یورپ کے مسیحی حلقوں میں بہت پھیلایا گیا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ میسی حلقوں میں بہت سارے عیسائی علما ایسے تھے جو اس کے فلسفیانہ نظریات کی وجہ سے اس کو دشمن ایمان جانتے تھے۔یورپ میں جوں جوں فلسفہ کی تعلیم عام ہوتی گئی اور نئی روشنی ( Enlightenment) کا دور شروع ہونے لگا تو لوگ دین سے بے زار ہونے لگے۔مسیحی پادریوں نے کہنا شروع کر دیا کہ یہ ساری بے دینی کے فلسفہ کی اشاعت کی وجہ سے ہے۔بعض لوگوں نے کہنا شروع کر دیا کہ دراصل کا تعلق یہودیت سے تھا ظاہر میں مسلمان بنا ہوا تھا۔بعض کہتے کر نہیں وہ عیسائی تھا۔اس کی بے دینی کے سلسلہ میں ایک یہ واقعہ بھی گھڑ لیا گیا: ایک دفعہ وہ گرجے میں گیا وہاں اس وقت عشائے ربانی کی رسم یو فارسٹ (Eucharist) ادا ہو رہی تھی۔نے نفرت سے لوگوں کو مخاطب ہو کر کہا کہ تم لوگ کس قدر احمق ہو جو اپنے خدا کی بوٹیاں نوچ رہے ہو۔اس کے بعد دعا کی کہ خدا مجھے فلسفیوں کی موت عطا کر۔نعوذ بااللہ یہ بھی کہا کہ اسلام بے وقوفوں کا دین ہے۔یورپ میں ایک اور من گھڑت افسانہ رواج پا گیا کہ مریضوں کے لئے نسخے تجویز نہیں کرتا تھا اور اسے طبابت کے پیشہ سے نفرت تھی۔اس مغالطے کی وجہ یہ تھی کہ کتاب الکلیات میں نے قصد اور آپریشن کے بعض سہل طریقے ابن زہر کے حوالے سے نقل کئے ہیں۔یہ اعتراض اس لئے بھی بے بنیاد ہے کیونکہ کئی سال تک خلیفہ ابو یوسف یعقوب منصور کے دربار میں شاہی طبیب کے منصب پر فائز رہا تھا۔ایک زمانہ میں مغرب اور مشرق کے علما کے درمیان یہ دلچسپ بحث جاری تھی کہ کسی خطہ زمین کو فضیلت حاصل ہے۔اس ضمن میں وہ اپنے اپنے ممالک کے ممتاز علما کے نام اور ان کی تصنیفات بیان کر کے اپنے ملک کی فضلیت ثابت کیا کرتے تھے۔اس سلسلہ میں سب پہلے ابن الربیب قیروانی نے اندلس کے عبد الرحمن ابن حزم کے نام ایک مراسلہ بھیجا جس میں شمالی افریقہ کی فضیلت اندلس پر ثابت کی۔اس کے جواب میں ابن حزم نے اندلس کے علما کے مناقب و فضائل پر ایک رسالہ لکھ کر ابن الربیب کو بھیجا۔ابن حزم کے رسالہ کے ذیل کے طور پر ابن سعید بن حزم نے مزید ایک رسالہ لکھ کر اس کی تکمیل و توثیق کی۔فلسفہ و اخلاقیات کے بیان میں اس نے کو خاص جگہہ دے کر علماے اندلس میں سب سے زیادہ قدر و منزلت کا مستحق قرار دیا۔ابو الولید شفندی نے اور اس کے دادا کو اسلام کے روشن ستارے اور شریعت کے چراغ کے القابات سے نوازا۔غرض کی رحلت کے سو برس بعد بھی اندلس میں اس کی تصنیفات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہا۔ابن تیمیہ اپنے وقت کے شیخ الاسلام تھے انہوں نے کی کتاب کشف الادلہ کا رد لکھا جو ان کی کتاب العقل والنقل میں شامل ہے۔ممتاز تاریخ داں ابن خلدون نے اپنی شہرہ آفاق کتاب مقدمہ تاریخ میں کو الفارابی اور ابن سینا کے ہم پلہ قرار دیا ہے۔31