ابن رشد — Page 29
ہزاروں مقدمات کی سماعت کی اور ہمیشہ ہی کوشش رہی کہ انصاف کا پلڑا بھاری رہے۔درویش صفت ہونے کے ساتھ نہایت محب وطن تھا۔افلاطون نے اپنی کتاب ری پبلک میں یونان کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہاں کے لوگ دماغی نشو و نما میں دنیا کے تمام ممالک سے افضل ہیں۔نے اس کتاب کی شرح میں اپنے وطن عزیز اندلس کو دماغی فضیلت میں یونان کے ہم پلہ قرار دیا۔جالینوس (Galen) نے یونان کی آب و ہوا کو سب سے زیادہ معتدل قرار دیا تھا نے کتاب الکلیات میں دعویٰ کیا کہ سب سے زیادہ معتدل آب و ہوا پانچویں اقلیم کی ہے اور قرطبہ اسی اقلیم میں واقع ہے۔وہ خلافت راشدہ کو ماڈل جمہوری حکومت تسلیم کرتا تھا جس میں افلاطون کی ری پبلک کے تمام خواص موجود تھے۔فنافی العلم تھا۔حصول علم کا شوق دل میں شعلے کی طرح جلتا رہتا تھا۔بچپن سے لے کر بڑھاپے تک کتابوں کے مطالعہ میں مشغول رہا۔جس طرح البیرونی نے کہا تھا کہ کتا بیں اس کی اولاد ہیں ، کچھ یہی حال ابن رشد کا تھا۔رات کے وقت بھی کتاب اس کے ہاتھ میں ہوتی تھی۔(1999ء میں راقم الحروف کو قرطبہ کی سیاحت کے دوران کے مجسمے کو دیکھنے کا موقعہ ملا تھا۔مجسمے میں بھی اس کے بائیں ہاتھ میں کتاب ہے )۔مؤرخ انصاري كتاب الديباج المذهب میں رقم طراز ہے: و عنى بالعلم من صغره الى كبره ، حتى حكى انه لم يدع النظر ولا القرأة منذ عقل الا ليلة وفاة ابيه، وليلة بنائه على ا، هله۔پوری زندگی میں صرف دو راتیں ایسی آئیں جن میں :: مطالعہ سے محروم رہا، ایک وہ رات جب اس کے والد کی وفات ہوئی اور دوسر کی وہ رات جب اس کی شادی ہوئی"۔مطالعہ کے ساتھ ساتھ تصنیف و تالیف کا سلسلہ بھی شب و روز جاری رہتا۔طب ، منطق ، بنیت اور فلسفہ پر 87 کے قریب کتابیں یادگار میں چھوڑیں جو میں ہزار صفحات پر مشتمل ہیں۔قاضی ابو مروان الباجی نے کی سیرت کو ان الفاظ میں بیان کیا تھا:" کی رائے نہایت صائب ہوتی تھی۔بے انتباذ کی اور قوی القلب تھا۔اس کے حو صلے نہایت بلند تھے، مصائب سے کبھی خوف نہ کھاتا تھا۔" (طبقات الاطباء صفحہ 76) اتنے بڑے عالم اور مسلم الثبوت فقیہ ہونے کے باوجود اس میں علمی برتری جتانے کا رتی برابر شوق نہ تھا۔دوسروں سے فراخدلانہ طور پر پیش آتا۔منکسر المزاجی کا اظہار اس کے سادہ لباس سے ہوتا تھا۔مال و متاع یا جائیداد بھی کوئی نہ تھی۔وہ اپنے دشمنوں سے بھی عدل کا سلوک کرتا تھا۔اس کا مشہور مقولہ تھا کہ اگر میں صرف دوستوں کو کچھ دوں تو میں نے وہ کام کیا جس کو میرا دل چاہتا تھا۔سخاوت یہ ہے کہ دشمنوں کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے جس کو 29