ابن رشد — Page 28
تصاویر نہیں ہوتی تھیں) دیکھی ہیں ان کے مطابق اس کے چہرے سے ذکاوت، فطانت ، تابانی اور تازگی چڑھتے سورج کی کرنوں کی مانند پھوٹتی نظر آتی ہے۔چہرہ رعب دار جس پر بادشاہوں والا وقار اور جلال تھا۔خدو خال سیکھے تھے۔آنکھیں روشن، ابرو کمان کی طرح تھی۔بھاری جسم پر جبہ زیب تن کرتا تھا۔ایک تصویر میں جو چغہ پہنے ہوئے دکھایا گیا ہے اس پر لا غالب الا اللہ لکھا ہوا نظر آتا ہے۔سر پر ہمیشہ پگڑی باندھتا تھا۔داڑھی ترشی ہوئی ہوتی تھی۔بائیں ہاتھ میں ہمیشہ کتاب تھا مے ہوتا تھا۔اجتہاد کیا ہے؟ اس کی مثال نے اس طرح دی ہے : " اکثر فقہا خیال کرتے ہیں کہ جس فقیہ نے سب سے زیادہ آراء حفظ کی ہیں وہ سب سے زیادہ قانونی مہارت رکھتا ہے۔ان کا نظریہ اس شخص جیسا ہے جو سوچتا ہے کہ موچی وہ ہے جس کے پاس بہت سارے جوتے ہوں بجائے اس شخص کے جو جوتے خود بنا سکتا ہو۔یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ وہ موچی جس کے پاس بہت سارے جوتے ہیں اس کے پاس ایک روز کوئی ایسا گا ہک ضرور آئے گا جس کے پیر کا جوتا اس کے پاس نہیں ہوگا۔لہذا ایسا گاہک لازماً ایسے موچی کے پاس جائے گا جو جوتے خود بنا سکتا ہو۔" اخلاق حسنہ کا حسین گلدستہ تھا۔علم و عمل کے شجر کی سرسبز اور ثمر آور شارخ کی حیثیت رکھتا تھا۔تمام اعلیٰ اخلاق اس میں جلوہ فگن تھے۔وہ ظاہری اور باطنی حسن سے مزین قلبی شرافت اور وضع داری کا دل فریب پیکر تھا۔اور اس کا شفقت بھر امر بیانہ رویہ قابل ستائش تھا۔اس کی فیاضی دوست دشمن سب کے لئے یکساں تھی۔کہتا تھا کہ اگر میں دوستوں کو دوں تو کچھ میں نے وہ کام کیا جو خود میری طبیعت کے مطابق تھا ، احسان تو یہ ہے کہ دشمنوں کے ساتھ ایسا حسن سلوک کیا جائے جو طبیعت پر نا گوارا گزرتا ہو۔اس کے حلم و بردباری کا ایک واقعہ یوں بیان کیا جاتا ہے کہ ایک دفعہ کسی شخص نے مجمع عام میں اس کے خلاف دشنام طرازی کی۔لیکن بجائے طیش میں آنے کے اس شخص کا ممنون ہوا کہ اس کی بدولت اس کو اپنے علم و عفو کے آزمانے کا موقعہ ملا۔اس نے اس شخص کو کچھ نقد رقم بطور تحفے کے دی لیکن اس کے ساتھ اس کو تلقین بھی کی کہ کسی اور کے ساتھ ایسا تو ہین آمیز رویہ اختیار نہ کرنا کیونکہ ہر کوئی اس کا احسان مند نہیں ہو گا۔اس کی ژرف نگاہی ، بصیرت، سربیع الہی اور شان و قار کا ایک زمانہ قائل تھا۔ایک خوش پوش ، خوش اطوار ، اور خوش باش ، جس کے رہن سہن ، وضع قطع ، رفتار و گفتار سے نفاست جھلکتی تھی۔وہ مکالمت ، مفاہمت، اور مصالحت کا خوگر تھا۔کینہ، کدورت حسد اور عداوت کے لئے اس کے دل میں کوئی جگہ نہ تھی۔قریب پندرہ سال تک قاضی کے با عزت عہدہ پر فائز رہا لیکن کسی مجرم کو سزائے موت نہ دی۔اگر کوئی ایسا فوجداری مقدمہ سماعت کے لئے پیش ہوتا تو خود کو اس مقدمے سے الگ کر لیتا، ایسے مقدمے کی سماعت اس کا کوئی نائب یا قائم مقام قاضی کرتا۔کسی مدعی کے لیوں پر اس کے ظالمانہ یا یک طرفہ طرز عمل کے خلاف حرف شکایت نہ آیا۔کسی فریق کی بے جا طرف داری نہ کی۔28