ابن رشد — Page 25
تھے، کا بیان ہے کہ مراکش میں میں نے خود دیکھا کہ کی لاش قرطبہ لے جانے کے لئے سواری پر رکھی جا رہی ہے۔کی وفات کے چند ہفتوں بعد خلیفہ منشور بھی 2 جنوری 1199 ، کو دنیا سے رخصت ہو گیا۔ابن بیطار نے بھی جو اندلس میں علم نباتات کا بہت بڑا عالم اور مصنف تھا اسی سال وفات پائی۔اس سے اگلے سال حفید ابو بکر ابن زہر جو کا جگری دوست اور خلیفہ منصور کے دربار میں اس کا ہم منصب تھا، فوت ہوا۔ابومروان بن زہر جس نے کی فرمائش پر کتاب التیسیو زیب قرطاس کی تھی۔اور طب میں گویا اس کا استاد تھا وہ بھی وفات پاچکا تھا۔اس طرح ارض اندلس ان یکتائے روزگار انسانوں سے مختصر عرصہ میں محروم ہوگئی۔یہ لوگ جو اپنے علمی نور سے اندلس کو منور کرتے رہے ان کی روشنی ماند پڑنے سے ملک کے اندر جہالت کا اندھیرا چھانے لگا۔مگر ان قد آور اندلسی عالموں کے طفیل اندلس کی ضیا پاشیوں سے یورپ جگمگا اٹھا۔یورپ والوں کے لئے مینارہ نور تھا مگر اپنے بیگانے بن گئے۔فی الحقیقت اس کی موت سے پورا عالم اسلام انحطاط کا شکار ہو گیا کیونکہ رواداری اور عقل پر پہرے بنھا دئے گئے۔سائنس جو بھی مسلمانوں کی لونڈی تھی اب اس کے ذریعہ یورپ نے مادی ترقی حاصل کرنا شروع کر دی۔اس ترقی کے بیچ مسلمانوں نے ہی ہوئے تھے۔اس دلچسپ داستان کی تفصیل اگلے صفحات پر آئے گی۔اولاد کو خدا نے حفظ مراتب سے آشنا ، رشتہ داروں سے محبت ، خلوص، اور تواضع سے برتاؤ کرنے والے کئی بیٹوں سے نوازا تھا مگر ان میں سے دو نے خاص شہرت حاصل کی۔بڑے بیٹے کا نام احمد اور کنیت ابوالقاسم تھی۔اس نے فقہ وحدیث کی تعلیم اپنے والد اور ابو القاسم ابن بشکوال سے حاصل کی۔وہ حافظ حدیث ہونے کے ساتھ روشن خیال دانشور تھا۔فقہ اور اصول فقہ میں مہارت کی بناء پر قاضی کے عہدہ پر فائز ہوا۔اس اہم عہدے کی ذمہ داریاں اس نے تمام عمر نہایت دیانت داری سے سر انجام دیں۔1225ء میں اس دنیائے فانی سے کوچ کیا۔دوسرے بیٹے کا نام محمد اور کنیت ابو عبد اللہ تھی۔اس نے طب کی تعلیم حاصل کی اور منصور کے بیٹے خلیفہ محمد ابن یعقوب الناصر 1213-1199ء کے دربار میں شاہی طبیب کے عہدے پر فائز رہا۔اس کی ایک کتاب کا نام حيلة البر ہے۔شخصیت، سیرت و اخلاق یگانه روزگار، جامع کمالات علامہ کی زندگی پر غائرانہ نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بے حد محنتی ، 25