ابن رشد

by Other Authors

Page 24 of 161

ابن رشد — Page 24

کو جب یہ خبر ملی وہ پاؤں سر پر رکھ کر مراقش روانہ ہوا۔فلسفہ کی کتابوں کو تلف کرنے کے جو احکامات جاری کئے گئے تھے وہ منسوخ کر دئے گئے۔خلیفہ منصور خود فلسفہ کی ترویج میں اس سیاسی شورش سے پہلے کی طرح منہمک ہو گیا۔خلیفہ پر یہ حقیقت عیاں ہو گئی تھی کہ اس سیاسی سازش کے در پردہ کے حاسدوں اور چند شر پسند علما کی کوئی اور غرض تھی۔یہاں مراقش میں ایک سال تک نے قضاء کے فرائض سر انجام دئے۔مفلسی میں جو دن گزارے تھے ان کا ازالہ ہونے لگا، ایک بار پھر وہ معاشرہ میں عزت کی نگاہوں سے دیکھے جانے لگا اور ، خلیفہ منصور کا ایک بار پھر وہ مقرب اور مصاحب بن گیا۔اچھے، پر لطف دونوں کی یاد تاز و ہونے لگی اور دوست احباب نے سینہ سے لگا لیا۔دسمبر کے مہینہ میں صاحب فراش ہوا، بیماری کی نوعیت کچھ ایسی تھی کہ موت کے بے رحم ہاتھوں کے آگے بے بس ہو گیا۔کچھ عرصہ بستر علالت پر گزارنے کے بعد مراقش میں جمعرات کے روز 10 دسمبر 1198ء جان جان آفریں کے سپرد کر دی۔شہر سے باہر باب تاغزوت کے قبرستان میں چشم پر نم کے ساتھ دوست احباب نے اندلس کے اس مایہ ناز فرزند کو سپرد خاک کیا۔یہاں وہ تین ماہ تک پیوند خاک رہا۔پھر اس کے بیٹوں یا کسی رشتہ دار کی خواہش پر اس کا جسد خاکی قرطبہ منتقل کیا گیا اور دوسری بار آبائی قبرستان مقبرہ ابن عباس میں آباء واجداد کے گنبد میں اس کی تدفین ہوئی۔ارض اندلس کا ی فلسفی شہزادہ اب بھی اسی جگہہ منوں مٹی تلے آرام کی نیند سو رہا ہے۔خدا اس کی تربت کو ہمیشہ نور سے بھرے اور آسماں سدا اس کی لحد پر شبنم افشانی کرتار ہے۔سب کہاں کچھ لالہ وگل میں نمایاں ہو گئیں خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں ی دنیا کی پرانی ریت ہے کہ جب کوئی مرجاتا ہے تو لوگ اس کو فراموش کر دیتے ہیں۔دنیا موت وزیست کیا تماشہ گاہ ہے، جو بھی پیدا ہوتا ہے وہ اپنی عمر بسر کر کے عالم فانی سے عالم جاودانی کی طرف روانہ ہو جاتا ہے اور کچھ مدت بعد لوگ اسے فراموش کر دیتے ہیں۔مگر کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک شخص مرکز ہمیشہ ہمیش کے لئے زندہ ہو جاتا ہے۔ایسے لوگ صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں۔ایسے لوگ روشنی کا مینار ہوتے ہیں جو لوگوں کو صحیح راہ عمل دکھاتے ہیں : لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے اور ابن العربی محی الدین ابن العربی ، جو کی وفات کے فورا بعد مشرق کے اسلامی ممالک کے سفر پر روانہ ہوئے 24