ابن رشد — Page 26
اولوالعزم، با ہمت پیکر متانت اور بارعب شخص تھا۔کم سخن ہونے کے باعث صرف ضرورت کے وقت گفتگو کرتا تھا۔گفتگو بھی اس قدر محبت بھرے لہجے میں کہ گویا منہ سے پھول جھڑتے ہوں۔سادہ، منکسر، متواضع اور دوسروں کے کام آنے والے خدمت کو حصہ ایمان سمجھتے ہیں۔اتنی جاہ و حشمت حاصل ہونے کے باوجود خاکساری و عاجزی اس میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔دولت ، شہرت، اور اہمیت نے اس کو جامہ سے باہر نہیں کیا۔اگر چہ اسے شاہی دربار میں اتنا اونچا عہدہ ملا ہوا تھا لیکن باوجود اس کے نہ تو مال و دولت جمع کیا اور نہ ہی کسی رشتے دار کو اپنے رتبے سے فائدہ پہنچایا۔جو کچھ مالی منفعت اس کو حاصل ہوئی اس سے دوسروں نے زیادہ فائدہ اٹھایا۔حاجت روائی اور ضرورت مندوں کی ضرورتیں پوری کرنا و داپنا فرض سمجھتا تھا۔نے فقہ، فلسفہ علم فلکیات ، طب تفسیر جیسے علوم میں اپنی ذہانت، ذکاوت سلیم الطبعی ، عزم صمیم، دیانت، اصول پسندی کا لوہا منوایا۔خود پسندی ، عیش کوشی ، زردیدگی، جاہ طلبی ، مطلب پرستی کے پیتے ہوئے صحرا میں اصول پرستی ، قناعت، دیانت اور صداقت کے ایسے پھول کھلائے جن کی خوشبو سے آج بھی مشام جاں معطر ہے۔اس کے وجدان نے وہ چراغ روشن کئے جن کی روشنی آج بھی دنیا کو منور کر رہی ہے۔مادی زندگی، کسب زر، جلب منفعت کو متاع حیات نہیں جانتا تھا۔وہ روحانی اقدار کو زندگی کی معراج گردانتا تھا۔چاپلوسی سے سخت نفرت کرتا تھا ، بڑھاپے میں اتنی ذلت و رسوائی برداشت کی ، جلا وطن ہوا، مفلسی میں وقت گزارا مگر کیا مجال کہ کسی کے آگے دست سوال دراز کیا ہو۔مشکلات اور تنگ دستی کو صبر، قناعت اور وقارت برداشت کیا۔بادشاہ جسے ایک وقت میں برادر من کہہ کر مخاطب کرتا تھا بر افروختہ ہوا اور نظر بند کر دیا مگر پائے استقامت میں لغزش نہ آئی۔اپنے موقف پر چٹان کی طرح ڈٹا رہا تا آنکہ بادشاہ کو غلطی کا احساس ہوا اور خود بلا کر دوبارہ قاضی کا عہد و پیش کیا۔نا خوشگوار حالات کے باوجود مزاج میں کمی پیدا نہیں ہوئی ، زندگی کے ہر زیرو بم کا مقابلہ خندہ پیشانی سے کیا۔استقلال اور ایثار اس کی شخصیت کے عناصر ترکیبی تھے۔وہ صبر وقناعت کا چلتا پھرتا مجسمہ تھا۔نام و نمود حاصل کرنے یا محبوب خلائق بننے کی کوئی آرزو نہ تھی۔اسے عربی کے مایہ ناز نا قد ، خوش فکر شاعر، ژرف نگاه محقق، اور صاحب فکر ادیب کا مرتبہ حاصل تھا۔اس کا شمار اندلس کی نابغہ روزگار ہستیوں میں ہوتا تھا۔علم اس کی زندگی تحقیق اس کی تسکین ، اور تخلیق اس کی مجبوری تھی۔ایسی مجبوری جو عام آدمی کو فنکار کی صف میں لا کھڑا کرتی ہے۔اس مجبوری نے اسے لائق احترام اور معتبر ہستی بنا دیا تھا۔حقیقت یہ ہے کہ علم سے فکر سے ، ادب سے آگہی اور دید دو دانش سے رشتہ استوار رکھنا بڑی سعادت ہے۔لیکن یہ سعادت کسی کسی کو نصیب ہوتی ہے۔وہ علم سے وابستگی کا روشن مینار تھا۔اسے حرف سے لفظ سے، اور کتاب سے عشق تھا اور اس عشق نے اسے ہمیشہ سرشار پر عزم اور فعال رکھا۔اس کا گھر صاحبان فکر ، حاملان ذوق سلیم اور 26