ابن رشد — Page 21
قرآن مجید کی آیات سے آراستہ تھیں لیکن ان کا باطن الحاد سے بھرا ہوا تھا۔ایسے لوگ وضع قطع ، زبان اور ظاہر طور پر تو مسلمان تھے لیکن ان کا باطن مسلمانوں سے مختلف تھا۔جب ہمیں ان کی خلاف شریعت با تیں معلوم ہوئیں تو ہم نے ان کو دربار سے نکال دیا، ان کے جلاوطن کئے جانے کا حکم جاری کیا ، ان کی کتابیں جلوا دیں کیونکہ ہم مسلمانوں کو ان کے قریب سے دور رکھنا چاہتے ہیں۔اے میری رعایا ایسے لوگوں کے گروہ سے اس طرح خوف کھاؤ جس طرح لوگ زہر سے ڈرتے ہیں۔جو شخص ان کی کتابوں کو کہیں دیکھے ان کو آگ میں ڈال دے۔اے خدا ہمارے ملک کو ملحدوں کے فتنہ سے محفوظ رکھ اور ہمارے دلوں کو کفر کی آلودگی سے پاک کر۔آمین" خلیفہ منصور نے اس فرمان کے بعد فلسفہ، منطق اور حکمت کی کتابوں کو نذر آتش کئے جانے کا انتظام کیا اور یہ اہم ذمہ داری مفید ابو بکر بن زہر کے سپرد کی۔منطق و حکمت کی تعلیم پر قدغن لگا دیا گیا۔اگر کوئی ان کے مطالعہ میں مشغول پایا جاتا تو مورد سز ا نھیر تا۔کتب فروشوں نے منطق و فلسفہ کی کتابیں اکھٹی کرنی شروع کر دیں اور جلد ہی اندلس ایسی کتابوں سے صاف ہو گیا۔یادر ہے کہ اس سے پہلے 1106 ء میں بھی فلسفہ کی کتابوں کو اندلس میں جلایا گیا تھا۔معلم ریاضی اور علم ہیئت کی کتابیں اس حکم سے مستشنی تھیں کیونکہ اسلامی رسومات و عبادات بشمول سمت قبلہ کے تعیین میں ان علوم کی ضرورت پڑتی تھی۔جلاوطنی کے تین برسوں میں پر کیا بیتی؟ قفس میں ان کے کیا مشاغل تھے؟ نظر بندی کے دوران ان کی دماغی حالت کیسی رہی؟ کیا تصنیف و تالیف کا شغل جاری رہا؟ ان امور کی تفصیل کتابوں میں زیادہ نہیں ملتی لیکن اتنا ضرور پتہ چلتا ہے کہ جلا وطنی کے زمانے میں ان کو بہت مصائب جھیلنے پڑے۔بعض کا کہنا ہے کہ لوسینا کی بستی سے فاس بھاگ گئے وہاں لوگوں نے ان کو پکڑ کر جامع مسجد کے دروازے پر کھڑا کر دیا تا کہ جو لوگ مسجد کے اندر جائیں یا باہر نکلیں وہ ان پر تھوکتے جائیں۔ان کا سماجی بائیکاٹ کیا گیا کوئی شخص ان سے ملاقات نہیں کر سکتا تھا۔عوام نے ان کو نشانہ تضحیک بنایا۔مؤرخ انصاری نے ابوالحسن ابن قطرال کی روایت سے ایک واقعہ درج کیا ہے جو کا بیان کردہ ہے: حدثنا ابو الحسن بن قطرال عن انه قال اعظم ما طراعلى في التلبة اني دخلت آن و ولدى عبد الله مسجد القرطبة ما قد حانت صلوة العصر فتار لنا بعض سفلة العاملة فاخرجنا منه ( ترجمہ ) اس زمانہ میں سب سے زیادہ تکلیف مجھے اس وقت ہوئی جب میں اور میرا بینا عبد اللہ دونوں قرطبہ کی ایک مسجد میں نماز عصر ادا کرنے کے لئے گئے تو لفنگوں نے ہمیں شور و غل بر پا کر کے مسجد سے نکال دیا۔21